جون 1984ء میں بھارتی فوج کا آپریشن بلیو سٹار صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھا، بلکہ یہ سکھ مذہبی شناخت، تاریخ اور مقدس ترین مقام دربار صاحب، گولڈن ٹیمپل کی کھلی بے حرمتی تھی۔ ٹینکوں اور توپوں سے اکال تخت کو نشانہ بنانا، تاریخی کتب خانے کو نذرِ آتش کرنا اور ہزاروں غیر مسلح زائرین کا خون ناحق بھارتی ریاست کے اس جابرانہ رویے کا آغاز تھا جو آج تک مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ اس آپریشن کی مذمت صرف ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ حال کے مظالم کو سمجھنے کی کلید بھی ہے۔ بھارت میں سکھوں پر ریاستی مظالم کا تسلسل آج بھی برقرار ہے ۔ آپریشن بلیو سٹار کے بعد بھارتی ریاست نے سکھ قوم کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا۔ پنجاب کو فوج کے حوالے کر دیا گیا، جعلی پولیس مقابلوں، جبری گمشدگیوں اور کالے قوانین جیسے ٹاڈا اور پھر یواے پی اے کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 1984ء سے 1995ء کے درمیان 25ہزار سے زائد سکھ لاپتہ یا قتل کئے گئے۔ آج بھی سکھ کسان تحریک کے رہنمائوں پر غداری کے مقدمے، گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کے بعد انصاف سے انکار، اور گردواروں کے انتظام میں حکومتی مداخلت اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی جبر کا سلسلہ رکا نہیں۔ سکھ نوجوانوں کو خالصتانی کا لیبل لگا کر ہراساں کرنا، پاسپورٹ منسوخ کرنا اور بیرون ملک مقیم سکھوں کے اہل خانہ کو پنجاب میں دبائو میں لانا معمول بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق سکھ برادری کی جانب سے خالصتان کا مطالبہ دراصل ریاستی جبر کا فطری ردعمل ہے۔ کوئی بھی قوم علیحدگی کا مطالبہ محض نظریاتی شوق سے نہیں کرتی۔ 1947ء میں انگریز سے وعدہ لیا گیا تھا کہ سکھوں کو ایک ایسا علاقہ ملے گا جہاں وہ اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت کے ساتھ رہ سکیں۔ آزادی کے بعد نہ صرف وہ وعدہ توڑا گیا بلکہ 1966ء میں پنجابی صوبہ بناتے وقت بھی دارالحکومت چندی گڑھ، دریا کے پانی اور ہیڈ ورکس پنجاب سے الگ کر دیے گئے۔ 1984ء میں گولڈن ٹیمپل پر حملے نے یہ واضح کر دیا کہ بھارتی ریاست سکھوں کی مذہبی خودمختاری تک برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ جب مذاکرات کے دروازے بند ہوں، مذہبی مقام پامال کئے جائیں اور نوجوانوں کی نسل کشی ہو تو خالصتان کا نعرہ احتجاج سے بڑھ کر بقاء کا سوال بن جاتا ہے۔ یہ کسی بیرونی سازش کا نہیں، اندرونی جبر کا ردعمل ہے۔ دو سکھ باڈی گارڈز کے ہاتھوں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 1984ء کے فسادات اور سکھ برادری پر ڈھائے گئے مظالم بھارت کے اصل مکروہ کردار کے ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ 31اکتوبر 1984ء کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی، کانپور، بوکارو اور دیگر شہروں میں منظم سکھ کش فسادات کرائے گئے۔ تین دن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2733 سکھ قتل ہوئے، جبکہ غیر جانبدار رپورٹوں میں تعداد 8 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ کانگریس رہنمائوں نے ووٹر لسٹوں سے سکھ گھروں کی نشاندہی کی، پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور فوج کو تین دن بعد بلایا گیا۔ اس ریاستی سرپرستی میں ہونے والے قتل عام نے سکھوں کو ہجرت پر مجبور کیا۔ کینیڈا، برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا اور جرمنی میں سکھ برادری کی بڑی تعداد انہی فسادات کے بعد منتقل ہوئی۔ آج دنیا کے ہر کونے میں گولڈن ٹیمپل کی شبیہہ والے گردوارے اس زخم کی یاد دلاتے ہیں۔ ہر دیپ سنگھ نجر کا قتل اور گرپتونت سنگھ کی ٹارگٹ کلنگ کی سازش ایک ہی بھارتی سازش کی کڑیاں ہیں۔18جون 2023ء کو کینیڈا کے شہر سرے میں گردوارہ صدر ہر دیپ سنگھ نجر کو قتل کر دیا گیا۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے قابل یقین شواہد کا ذکر کیا۔ اسی سال امریکی عدالت میں بھارتی شہری نکھل گپتا پر فرد جرم عائد ہوئی کہ اس نے بھارتی خفیہ اہلکار کے کہنے پر نیویارک میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کی اور 15 ہزار ڈالر ایڈوانس بھی دئیے۔
امریکی محکمہ انصاف کی دستاویزات کے مطابق یہ سازش بھارتی حکومت کے سینئر اہلکار کی ہدایت پر ہوئی۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ بھارتی ریاست اب اپنی سرحدوں سے نکل کر بیرون ملک سکھ کارکنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون، ویانا کنونشن اور ہر ملک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دنیا بھر میں منعقد ہوئے خالصتان ریفرینڈم درحقیقت سکھ برادری کا بھارتی ریاست پرعدم اعتماد کا واضح اظہار ہیں۔سکھس فار جسٹس کے زیر اہتمام 2021ء سے کینیڈا، برطانیہ، اٹلی، آسٹریلیا اور امریکہ میں خالصتان ریفرینڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ لاکھوں سکھ ووٹ ڈال کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ بھارتی آئین، عدلیہ اور انتخابی نظام پر اعتماد کھو چکے ہیں۔ بھارت اسے قانونی حیثیت نہ ہونے کا کہہ کر مسترد کرتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جب ایک قوم اپنے ہی ملک کے نظام سے مایوس ہو کر بیرون ملک رائے شماری کرے تو یہ ریاست کی ناکامی کا اعلان نہیں تو اور کیا ہے؟ ریفرینڈم میں 18 سال کے نوجوان سے لے کر 90 سال کے بزرگ شرکت کر رہے ہیں۔2014ء کے بعد بی جے پی کے اقتدار میں ہندوتوا نظریے کو ریاستی سرپرستی ملی۔ سکھوں کے ساتھ ساتھ مسلمان، عیسائی اور دلت بھی نشانے پر ہیں۔ کسان تحریک کے دوران سکھ کسانوں کو خالصتانی دہشت گرد کہا گیا۔ شہریت ترمیمی قانون، کسان قوانین اور زرعی منڈیوں کی نجکاری جیسے اقدامات سے پنجاب کی معیشت کو نقصان پہنچایا گیا۔ گردوارہ گیان گودڑی ساہب ہریدوار کو گرانا، ہماچل میں سکھ ڈرائیوروں پر حملے اور ہریانہ میں سکھ کسانوں کی زمینوں پر قبضے کی کوششیں اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔ لو جہاد، گھر واپسی اور بیف پر پابندی جیسے قوانین سے اقلیتوں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ آج بھارت میں مذہبی آزادی کا انڈیکس تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے اور سکھ برادری خود کو دوسرے درجے کا شہری سمجھنے پر مجبور ہے۔ آپریشن بلیو سٹار سے لے کر ہر دیپ سنگھ نجر کے قتل تک، بھارتی ریاست نے طاقت کے زور پر سکھ بیداری کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ گولی سے نظریے نہیں مرتے۔ جب تک گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی پر معافی نہیں مانگی جاتی،1984ء کے فسادات کے مجرموں کو سزا نہیں ملتی، پنجاب کے پانی اور دارالحکومت کا تنازع حل نہیں ہوتا، اور بیرون ملک سکھوں کو قتل کرنے کی پالیسی بند نہیں ہوتی، اس وقت تک خالصتان کا مطالبہ ختم نہیں ہوگا۔ یہ مطالبہ غداری نہیں، انصاف کی فریاد ہے۔