Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

استاد قوم کےروشن مستقبل کی بنیاد

انسان دنیا میں آتا ہے تو نادان ہی نہیں،ہر طرح سے بے خبر بھی ہوتا ہے۔اگرچہ والدین اٗس کی جسمانی پرورش کرتے ہیں تاہم معاشرے میں اچھی زندگی گزارنے کے لیے اسے ذہنی،اخلاقی اور روحانی تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اسی ”تربیت“ سے صحیح معنوں میں وہ انسان بنتا ہے جو اسے ایک اچھا استاد ہی فراہم کر سکتا ہے۔ استاد کو کسی بھی معاشرے میں ایک روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے۔جیسے کوئی باپ اپنی اولاد کی بہتری چاہتا ہے ویسے ہی ایک استاد شاگرد کی کامیابی پر دلی خوشی محسوس کرتا ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ استاد کا رشتہ نصاب کی کتابیں پڑھانے تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ استاد کا اپنے شاگرد کےساتھ دائمی اور گہرا مشفقانہ تعلق ہے۔جو قومیں ترقی کرتی ہیں،ترقی کی راہوں پر گامزن ہو کر آسمانوں کو چھونے لگتی ہیں۔درحقیقت اساتذہ ہی اُن کے اصل معمار ہوتے ہیں۔آنے والی نسلوں کو ملک و ملت کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل بنانا اساتذہ کرام ہی کی ذمہ داری ہے۔وہ نہ ہوں تو شاید اتنا بڑا فریضہ انجام دہی سے محروم رہے۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نےاستاد کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا ”استاد قوم کے محافظ اور روشن مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں جس ملک کا تعلیمی اور تربیتی نظام مضبوط بنیادوں پر استوار ہو،اس ملک میں بسنے والوں کی تقدیر ہی بدل جاتی ہے۔اچھا استاد صرف نصابی کتابوں تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ طالب علم کی ہمہ جہت ترقی کو بھی وہ یقینی بناتا ہے۔شاگردوں میں سچائی،دیانت داری،وقت کی پابندی اور نظم و ضبط جیسے اوصاف پیدا کرتا ہے۔استاد ہی ہے جو اپنے شاگرد کو معاشرتی اقدار بھی سکھاتا ہے۔اس میں بلا کی خود اعتمادی پیدا کرتا ہے تاکہ وہ مستقبل میں ایک بہترین انسان،لیڈر اور معاشرے کا ذمہ دار فرد بن سکے۔مذہبی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو اسلام نے استاد کو بڑا مرتبہ اور احترام دیا ہے۔مقام کی ایسی بلندی عطاء کی ہے شاید لفظوں میں اس کا احاطہ ممکن نہ ہو۔پیغمبر اسلام ؐ نے معلم ( سکھانے والا) کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ”جو شخص کسی کو خیر اور بھلائی کی طرف بلاتا ہے اسے بھی نیکی کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے“۔ان ساری باتوں کی تمہید اور لب لباب یہ ہے کہ استاد ایسا روشن چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کی راہیں منور کرتا ہے۔استاد کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔نہ ہی اس کے بارے میں سوچ سکتا ہے لہٰذا ہر طالب علم اور معاشرے کے ایک فرد کی حیثیت سے ہمیں اپنے اساتذہ کا احترام اور قدر کرنی چاہیے کیونکہ استاد کی عزت میں ہی طالب علم اور معاشرے کی عظمت پنہاں ہے۔استاد کو ہر معاشرے میں ایسے رہنما کا درجہ دیا گیا ہے جو بہت قابل ستائش اور قابل احترام ہے۔اسلام میں استاد کا درجہ والدین کے بعد سب سے بلند سمجھا جاتا ہے۔حضرت علیؓ کا قول ہے”جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا،میں اُس کا غلام ہوں-“اسی طرح رسول اکرمؐ نے فرمایا ”مجھے دنیا میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہے“۔ نبی پاکؐ کا یہ ایک جملہ ”استاد“ کے عظیم مرتبے کو واضح کرتا ہے۔قدیم تاریخ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ علمائے کرام، بڑے بڑے سائنسدان اور رہنما اپنے اساتذہ کا بےحد احترام کرتے تھے۔اچھے استاد کی بدولت ہی ایک شاگرد کی شخصیت سنورتی ہے اور اس میں ایسی خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے کہ وہ بڑے بڑے حوادث اور طوفانوں سے بھی ٹکرا جاتا ہے۔زندگی کے کسی بھی شعبہ میں استاد کا ادب و احترام بے حد ضروری ہے۔جو طلباء اساتذہ کرام کی بات مانتےہیں،اُن کی عزت کرتے ہیں۔ احترام دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بھی اُن کو نوازتے ہیں اور علم جیسی بڑی نعمت اور دولت سے مالا مال کر دیتے ہیں جس سے معاشرے میں آگہی آتی ہے۔قلب و ذہن سنور جاتے ہیں اور سب کچھ ٹھیک ہونے لگتا ہے۔جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیئے بہت ضروری ہے۔دین اسلام نے استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا ہے۔قرآن پاک میں استاد کے عظیم مرتبے کو مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہےجس سے استاد کی عظمت اور تقدس کا واضح اظہار ہوتا ہے۔رب العزت نے بھی انبیاء کرام کی بنیادی ذمہ داریوں میں ”تعلیم و تربیت“ کو سرفہرست رکھاجس سے معلم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔قرآن میں عالم (علم جاننے والے ) اور جاہل (علم نہ جاننے والے) کے فرق کو واضح کرتے ہوئے علم والوں کے لیے اعلیٰ درجے کا ذکر کیا ہےلیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے ملک بھر میں اساتذہ آئے روز اپنے مطالبات کو لیے سڑکوں پر ہوتے ہیں۔کبھی لاہور،کبھی اسلام آباد،کبھی کراچی،کبھی اور بھی کئی شہروں میں انہیں پلے کارڈ اٹھائے احتجاج کے لیئے اہم پوائنٹس پر دیکھا جا سکتا ہے۔احتجاج پر پولیس کارروائی کرتی ہے اور حسب معمول منتشر کرنے کے لیئے اُن پر بے دریغ لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔آنسو گیس پھینکی جاتی ہے۔گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاتی ہیں۔اگر ہم ایک مہذب معاشرہ ہیں؟ تو اساتذہ کے خلاف اس قسم کی ”درندگی“ کسی طرح بھی زیب نہیں دیتی۔معمار بنانے والوں کےساتھ اس طرح کا رویہ اور سلوک نہایت قابل مذمت ہے۔اساتذہ کے کچھ مسائل ہیں تو حکومتی سطح پر انہیں بڑی توجہ اور ہمدردی سے سنا جانا چاہیے۔اساتذہ پر لاٹھیاں برسا کر اور گرفتاریاں کر کے ہم کوئی بہتر کام نہیں کر رہے۔ایسا کر کے دنیا کی تمام مہذب اقوام کو درحقیقت ہم پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے ہاں استاد کی کوئی عزت و توقیر نہیں۔معلم کا جو وقار اور درجہ ہونا چاہیے۔قرآن نے بھی جس کی بار بار تلقین کی ہے۔اس پر کاربند رہنے میں ہی ہماری عافیت ہے۔

یہ بھی پڑھیں