پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے بارہ ارب روپے سے زائد کی لاگت سے ایک شاہانہ جہاز کی خریداری نہ تو عوام کو ہی ہضم ہو رہی ہے اور نہ سیاست کو۔ یہی وجہ ہے کہ اس جہاز نے پاکستانی سیاست میں ایک نیا طوفان برپا کر دیا ہے۔ پاکستان معاشی بحران کا شکار ہے مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور روزگار کے مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت عوام سے کہہ رہی ہے کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں، لاہور جیسے بڑےشہر میں پیدل چلنے کے راستے تنگ ہیں اور دوسری طرف بارہ ارب روپے کا جہاز خریدا گیاہے۔ یہ منافقت کی انتہا ہے۔ یہ جہاز وی آئی پی ٹریول کے لیے مشہور ہے اور اس میں 13 سے 19 افراد بیٹھ سکتے ہیں ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جہاز پنجاب ائیر کے لیے خریدا گیا ہے لیکن جب خود وزیرِ اطلاعات کو اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جہاز وی آئی وی پی کے لیے ہے۔ تضاد اور جھول سے ظاہر ہے کہ حکومت خود اس معاملے میں واضح نہیں ہے۔اس جہاز کی قیمت کو سمجھنے کے لیے کچھ حقائق پر نظر ڈالتے ہیں۔ یہ وہی رقم ہے جو پی آئی اے کی 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہوئی ۔ جس ایئرلائن نے 654 ارب روپے کا قرضہ چھوڑا تھا اس کے 75 فیصد حصص صرف 10 ارب روپے میں فروخت کیے گئے اور اب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لئےحکومت ایک ہی جہاز پر بارہ ارب خرچ کر رہی ہے۔ یہ ایک کھلا تضاد ہے۔ مزید یہ کہ اس جہاز کی سالانہ آپریشنل لاگت کروڑوں روپے بنتی ہے جس میں ایندھن، دیکھ بھال اور عملے کی تنخواہیں شامل ہیں ۔سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس پر سوال اٹھایا کہ کوئی بھی تجارتی ائیرلائن 10 سے 16 نشستوں والے کاروباری جہاز کو اپنے بیڑے میں شامل نہیں کرتی ۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ جہاز پنجاب ائیر کا حصہ نہیں بلکہ وزیراعلیٰ کے ذاتی استعمال کے لیے ہے ۔اس کے مقابلے میں کینیڈا کی صوبائی حکومت اونٹاریو کی مثال لیں تو وہاں کے وزیراعلیٰ ڈوگ فورڈ نے حال ہی میں 28.9 ملین ڈالر (تقریباً 21 ملین امریکی ڈالر) کا ایک نجی جہاز خریدا ۔ جب اس پر عوام اور اپوزیشن نے شدید تنقید کی تو انہوں نے محض دو دنوں میں ہی جہاز بیچنے کا اعلان کر دیا ۔ اونٹاریو کی اپوزیشن لیڈر ماریٹ اسٹائلز نے اسے “گراوی پلین” قرار دیا، اور کہا کہ جب عوام کرائے اور گروسری کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو وزیراعلیٰ نجی جہاز خرید رہے ہیں ۔ ڈوگ فورڈ پر دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ انہیں اپنی ہی حکومت کے فیصلے کو واپس لینا پڑا ۔ ذرا تصور کریں کہ پاکستان میں جہاں معاشی حالات کینیڈا سے کہیں زیادہ خراب ہیں وزیراعلیٰ پنجاب بارہ ارب روپے کا جہاز خرید رہی ہیں اور کوئی بھی اس کی پروا نہیں کرتا۔ اگر اونٹاریو جیسی ترقی یافتہ اور امیر ریاست میں یہ خریداری ناقابلِ قبول تھی تو پاکستان جیسے قرضوں میں ڈوبے ملک میں یہ کس درجے کی بے حسی ہے؟ ڈوگ فورڈ کو اپنے فیصلے پر شرم آئی اور انہوں نے اسے واپس لے لیا لیکن ہماری وزیر اعلیٰ کو تو اس پر فخر ہے اور انکی ترجمان مریم اورنگزیب نے انتہائی رعونت کے ساتھ پنجاب اسمبلی میں کھڑے ہو کر فلور آف ہاوٗس یہ بات کہی کہ ہاں ہم نے خریدا ہے جہاز اور جسکو جو کرنا ہے کر لے۔ مشہور شاعرہ نوشی گیلانی نے شاید اسی موقع کے لئے یہ شعر کہا تھازعم کتنا کرتے ہو اک چراغ پر اپنے اور ہوا کے چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے۔ پاکستان کے معاشی اعداد و شمار خود بولتے ہیں۔ اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 2018-19 میں 9.21 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی ہے ۔ پنجاب میں یہ شرح 16.5فیصد سے بڑھ کر 23.3فیصد ہو گئی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ پنجاب میں چند سالوں میں لاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ ہر دوسرا بچہ غذائی قلت کا شکار ہے اور عوام خوراک اور دوائیں خریدنے سے قاصر ہیں ۔جب عوام بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں پٹرول مہنگا ترین ہے اور اشیائے خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں تو ایسے میں بارہ ارب روپے کا جہاز خریدنا کسی بھی انسان کے لیے قابلِ فہم نہیں ہے ۔ یہ وہی حکمران ہیں جو پہلے پی ٹی آئی کے دور میں خدائی دعووں پر تنقید کرتے تھے اور اب خود ایسی رعونت میں مبتلا ہیں۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو عوام کو بتاتے تھے کہ پیسے کہاں اور کیسے خرچ ہوتے ہیں لیکن اب جب ان کی حکومت ہے تو وہ جواب دینے سے قاصر ہیں۔ یہ دوہرا معیار ہے۔یہ جہاز مستقبل میں شریف فیملی کا ایک اور بڑا اسکینڈل ہے۔ جب ان کے پاس ذاتی حیثیت میں جہاز خریدنے کے پیسے ہیں تو وہ اپنے ذاتی خرچے سے جہاز خرید کر ملک کو دے دیتے لیکن جب عوام کے پیسوں سے خریدا جائے اور پھر اس کو پنجاب ائیر کے نام پر چھپایا جائے تو یہ دھوکہ ہے ۔ انہیں ایک نہ ایک دن عوام کو اپنے ٹیکس کے پیسوں کا حساب دینا ہوگا۔یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے۔ یہ حکمرانوں کی ترجیحات کا معاملہ ہے۔ جب ایک طرف عوام اپنے بچوں کا کفن خریدنے سے قاصر ہیں اور دوسری طرف حکومت بارہ ارب کا جہاز خرید رہی ہے تو عوام کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ ان کے ٹیکس پیسے صحیح جگہ خرچ ہو رہے ہیں ۔ عوام کو سوال کرنےکا حق ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کو اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہیے کہ قرضوں میں دھنسے صوبے میں جہاز کیسے خریدا گیا اور کس کے فنڈز سے خریدا گیا اور کیا یہ خریداری واقعی ضروری تھی ۔اگر اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈوگ فورڈ جیسی امیر ریاست کے سربراہ کو اپنے فیصلے پر شرم آتی ہے اور وہ عوام کے دباؤ پر جہاز بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو پنجاب کی وزیراعلیٰ کو بھی عوام کے دباؤ پر اپنے اسراف کا جواب دینا ہوگا ۔ یہ فرعونیت نہیں چلے گی۔ عوام بیدار ہیں اور وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ یہ شاہ خرچیاں ہیں اور اسکا حساب دینا ہو گا۔
ظلم کرنے کی جو ظالم کو اجازت ہو گی
جان لوگوں کی نہ ہرگز بھی سلامت ہو گی