سرمایہ داری اور لالچ کا متبادل صلہ
دنیا میں دولت کی ہوس آئے روز بڑھتی جا رہی ہے۔ شائد یہ سرمایہ داری نظام کی کرامت ہے یا انسانی لالچ کا نتیجہ ہے، جو بھی ہے انسان کی اخلاقی اقدار کے مقابلے میں اب دولت ہی انسان کا
دنیا میں دولت کی ہوس آئے روز بڑھتی جا رہی ہے۔ شائد یہ سرمایہ داری نظام کی کرامت ہے یا انسانی لالچ کا نتیجہ ہے، جو بھی ہے انسان کی اخلاقی اقدار کے مقابلے میں اب دولت ہی انسان کا
امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ صرف ایک ماہ کے اندر ہی بے پردہ ہو گئے ہیں۔ امریکہ جیسی بلاشرکت غیرے سپر پاور کو ڈونلڈ ٹرمپ جیسا صدر شائد زیب دیتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ برق رفتار سیاسی طبیعت کے مالک ہیں۔
یہ ممکن ہے کہ چیزیں عین اسی طرح واقع ہوں جیسے آپ چاہتے ہیں۔ چیزوں کی وقوع پذیری اگرچہ انسانی ارادے کی مکمل طور پر محتاج نہیں ہے۔ لیکن ایک تو انسان احسن تقویم ہے اور دوسرا وہ کائنات کی
صدر ڈونلڈٹرمپ ایک مقولے کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کہاوتیں، حکایتیں اور مقولہ جات وغیرہ بہت سبق آموز ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی واحد سپر پاور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر ہیں۔ کہانیوں سے اخذ کی گئی
انسان کی انفرادی زندگی ہو یا معاشرے اور اقوام کے حالات و واقعات ہوں، اگر انہیں ماضی کی زبان میں لکھا اور پڑھا جائے تو اسے “علم تاریخ” کہتے ہیں۔ تاریخ کا علم ماضی کے حالات و واقعات، تعلقات، کیفیات،
ہمارے ہاں رائج جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ یہ انفرادی سوچ اور فکر کے لئے زہر قاتل ہے۔ بے شک مغربی جمہوریت آج تک کا ایک کامیاب ترین نظام حکومت ہے مگر یہ اس لحاظ سے بدترین سیاسی نظام
(گزشتہ سے پیوستہ) بہت سے جانوروں میں یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ اپنی شکل و صورت بدل کر ماحول میں گھل مل جاتے ہیں۔ انسانوں کے وضع کئے گئے طریقے اس عمل کی نقل کرنے کے معاملے میں
انسان باعث امارت مخلوق ہے۔ ایک بار ایک جرمن فلاسفر نے کہا تھا جس کا مفہوم ہے کہ علم و دانش اور ثروت کے اتنے خزانے سمندروں کی تہوں میں نہیں ہیں کہ جتنے انسان کے دماغ میں مدفن ہیں۔
(گزشتہ سے پیوستہ) اس موضوع پر ’’سم ویئر ان ٹائم‘‘ 1980 میں بنی جب فلم کی کہانی میں ایک شخص ایک ایسی عورت سے ملنے کے لئے ماضی میں جاتا ہے جسے اس نے صرف ایک تصویر میں دیکھا ہوتا
بہت کم لوگ ہونگے جو صبح اٹھ کر دن کا شیڈول بناتے ہیں اور اس کے مطابق کام کر کے شام کو اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ دن میں کیا کیا کام کیا، اور کیا کیا کام کرنے