اندھیرے اور روشنی کی مقدار
اڑھائی گھنٹے تک سینما ہال میں بھلا کون نیند پوری کرنے جاتا ہے، اوپر سے رمضان کریم کی رحمتوں والا مہینہ ہو۔ اس کے باوجود ایک دوست کے اصرار پر فلم دیکھنے جانا پڑا۔ یہ انڈین فلم تھی جس کا
اڑھائی گھنٹے تک سینما ہال میں بھلا کون نیند پوری کرنے جاتا ہے، اوپر سے رمضان کریم کی رحمتوں والا مہینہ ہو۔ اس کے باوجود ایک دوست کے اصرار پر فلم دیکھنے جانا پڑا۔ یہ انڈین فلم تھی جس کا
لمبی عمر کا راز اچھی خوراک، صحت اور ورزش ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’ایک اچھا دماغ ایک اچھے جسم میں پایا جاتا ہے‘‘ ،اس سے متوازن غذا کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ خوراک ویسے بھی آکسیجن کے بعد جاندار
ہمارے ایک مسلم سکالر اپنے پوڈکاسٹ کی کلپس میں ایک بڑا مشکل لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے جیسے متوسط پڑھے لکھوں اور زبان کے تھوتلوں کے لئے تو یہ لفظ اکٹھا بولنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے مگر
ہمارے اجتماعی پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اقدار کا زوال اپنے پاتال کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ ہماری زندگی کے تقریباً ہر شعبہ میں بدعنوانی، رشوت خوری، جھوٹ، ہیرا پھیری اور اصولوں کی خلاف ورزی نے ڈیرے ڈال رکھے
سہراب سائیکل کے بانی اور مالک شیخ اکرم صاحب ارب پتی پاکستانی تھے جو بے بسی اور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں چند روز قبل دنیا سے رخصت ہوئے۔ کہا جاتا ہے ان کی میت کئی دنوں تک ہسپتال میں
بلوچستان کوئٹہ ٹرین کے اغوا کی تفصیلات آ رہی ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ افغان شدت پسند شریف اللہ عرف جعفر کے امریکی عدالت میں پیشی کے روز پیش آیا۔ اتفاق سے کوئٹہ بولان کے قریب جس ٹرین کے ساتھ یہ
ایک بار کسی نے کہا تھا کہ، ’’یہ معاشرہ بڑا منافق ہے کہ غریب کے سچ پر بھی اعتبار نہیں کرتا اور امیر کے جھوٹ پر بھی صداقت کی مہر لگا دیتا ہے۔‘‘ واقعی غربت، ایک تلخ حقیقت اور کڑوا
شائد یہ تجربہ آپ کو بھی ہوا ہو کہ بعض دفعہ آپ کو ایسی آوازیں سنائی دیتی ہیں یا ایسا کچھ دکھائی دیتا ہے، جو کسی خاص موقعہ پر آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو سنائی دےرہاہوتا ہےاورنہ ہی دکھائی
ڈاکٹر نسیم اشرف سے دسمبر 2010 ء میں پہلی ملاقات ابوظہبی میں ’’ایمریٹس پیلس ہوٹل‘‘میں ہوئی جب پی ٹی آئی پنجاب کے سابق جنرل سیکرٹری فاروق ملک اور راقم سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف سے ملنے گئے تھے۔ اس کے
امریکی صدر سے جھڑکیاں کھانے کے بعد یوکرینی صدر کا برطانوی وزیراعظم نے لندن، ڈائوننگ سٹریٹ میں بڑی خوش دلی سے استقبال کیا۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے یورپی ممالک کے رہنمائوں پر مشتمل اہم اجلاس بلایا تھا جس میں