آپریشن جبرالٹر سے آپریشن بنیان المرصوص تک
پاکستان کی آزادی کی پہلی صبح سے ہی یہ قوم استقامت کی نگہبان بنی رہی ہے۔ بارہا ایسے امتحانات آئے جو اس کے حجم، وسائل اور عمر سے کہیں بڑے تھے، مگر ہر بار پاکستان نے وہی جواب دیا—یہ ملک
پاکستان کی آزادی کی پہلی صبح سے ہی یہ قوم استقامت کی نگہبان بنی رہی ہے۔ بارہا ایسے امتحانات آئے جو اس کے حجم، وسائل اور عمر سے کہیں بڑے تھے، مگر ہر بار پاکستان نے وہی جواب دیا—یہ ملک
رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ صرف واقعات کا ایک تاریخی ریکارڈ نہیں، بلکہ ہر دور کی انسانیت کے لیےایک لافانی خزانہ ہدایت ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی وحیِ الٰہی کی براہِ راست روشنی میں بسر ہوئی،
اللہ ربّ العزت نے اپنی لامحدود رحمت اور حکمت کے تحت ہمارے جدِ امجد حضرت آدم علیہ السلام اور امّاں حوّا کو اس دنیا میں بھیجا تاکہ انسانیت کا آغاز ہو اور تہذیب و تمدن کی کہانی شروع ہو۔ لیکن
حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی نے پنجاب کی سرزمین کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ طوفانی سیلاب اپنے ساتھ ایسی تباہی لایا ہے کہ جسے الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ بستیاں صفحہ ہستی
پاکستان نے اپنی تخلیق کے ساتھ ہی، اگست 1947 سے، اپنی دفاعی قوت کو مضبوط بنانے کا عزم کر لیا تھا۔ نو زائیدہ ریاست اپنے مشرقی ہمسائے کی جانب سے لاحق خطرات سے بخوبی آگاہ تھی اور اسی لیے اس
پاکستان نے اپنی تخلیق کے ساتھ ہی، اگست 1947 سے، اپنی دفاعی قوت کو مضبوط بنانے کا عزم کر لیا تھا۔ نو زائیدہ ریاست اپنے مشرقی ہمسائے کی جانب سے لاحق خطرات سے بخوبی آگاہ تھی اور اسی لیے اس
جنوبی ایشیا ء کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کبھی مکمل ہم آہنگی کا روپ نہ دھار سکے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی کابل نے اسلام آباد کو ایسے امتحانات میں ڈالا
پاک۔امریکہ تعلقات کی تاریخ کسی پرانے رشتے کی طرح ہے جس میں محبت بھی رہی، بے اعتمادی بھی اور وقتاً فوقتاً مایوسی بھی۔ کبھی یہ تعلقات قریبی دوستی کی مانند لگتے ہیں تو کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ فریقین
ہر نوجوان دل مستقبل کے خوابوں سے لبریز ہوتا ہے، اور اکثر یہ خواب ہمت، عزم اور اپنی قوم کی خدمت کے جذبے کے رنگوں سے آراستہ ہوتے ہیں۔ 17 فروری 1951ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے راشد منہاس
بادل پھٹنے کے واقعات صدیوں سے فطرت کے پراسرار اور تباہ کن مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ اچانک اور شدید بارشیں ہوتی ہیں جو عموماً ایک گھنٹے کے اندر چند کلومیٹر کے علاقے پر کئی سینٹی میٹر پانی برسا