حلال اور حرام کے درمیان ختم ہونے والی لکیر
مجھے فخر ہے کہ میں لاہور کا رہائشی ہوں، ایک ایسا شہر جس کا نام سنتے ہی دل میں محبت، جفاکشی اور مہمان نوازی کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ لاہور کے لوگ، جنہیں محبت سے ’’زندہ دلانِ لاہور‘‘ کہا جاتا
مجھے فخر ہے کہ میں لاہور کا رہائشی ہوں، ایک ایسا شہر جس کا نام سنتے ہی دل میں محبت، جفاکشی اور مہمان نوازی کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ لاہور کے لوگ، جنہیں محبت سے ’’زندہ دلانِ لاہور‘‘ کہا جاتا
مون سون کی آمد سے پہلے ہی پاکستان کے مختلف علاقے تباہی کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔ بے موسمی اور نہ تھمنے والی بارشیں اس سرزمین پر اس شدت سے برسیں کہ سیلابی ریلوں نے گھروں، سڑکوں، فصلوں اور
(گزشتہ سےپیوستہ) اگرچہ ان حوالوں کی تشریحات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ایسے مقامات کو اس بات کا ثبوت قرار دیا گیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے پیغام کی آفاقیت کو مختلف تہذیبوں میں تسلیم کیا گیا تھا۔ بدقسمتی
انسانی تاریخ کے ہر دور میں کچھ شخصیات ایسی ابھری ہیں جنہوں نے اپنے بے مثال کردار، لازوال پیغام اور آفاقی کشش کی بدولت سب پر فوقیت حاصل کی۔ ان ہستیوں میں کوئی بھی شخصیت حضرت محمد مصطفی ﷺ سے
شراب نوشی اور اس کی تجارت کا معاملہ ایک اسلامی ریاست میں نہایت سنجیدہ اور غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اسلام، جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، نہ صرف انسان کی روحانی بلندی کو مخاطب کرتا ہے بلکہ اس
اگرچہ میں 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے چار سال بعد پیدا ہوا، لیکن میرے بچپن کی کہانیاں اور مطالعے ہمیشہ ایک دلیر اور مضبوط پاکستان کی تصویر پیش کرتے رہے، جس نے ہر محاذ پر بھارت کو شکست
لاہور کی مون سون کی بارشیں میرے دل میں ہمیشہ ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ یہ محض ایک موسم نہیں بلکہ زندگی کے ایک ایسے باب کی مانند ہیں جو خوشبو، جذبات اور یادوں سے لبریز ہے۔ اس تاریخی شہر
محصولات کی وصولی ہمیشہ سے ایک فعال ریاست کے ڈھانچے میں ایک ناگزیر ستون رہی ہے۔ منظم طرزِ حکمرانی کے ابتدائی ادوار سے ہی ٹیکس عائد کرنا ایک معمول کا عمل رہا ہے تاکہ انتظامی نظام کی بقا، عوامی خدمات
انسانی تاریخ میں کچھ ایسے نام بھی ہیں جنہوں نے اپنے کردار، قربانی، فضیلت اور غیر متزلزل اصولوں کی بدولت ایسا ابدی مقام حاصل کیا ہے کہ ان کی بازگشت صرف وقت کے گزرنے سے نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر
کچھ واقعات دل کو اس قدر گہرائی سے چھو جاتے ہیں کہ ان کی بازگشت سیلابی پانیوں کے اترنے، چیخ و پکار کے تھمنے اور گرد بیٹھ جانے کے بعد بھی دل و دماغ پر نقش رہتی ہے۔ یہ صرف