Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

وزیراعظم کیخلاف عدم اعتما د، ن لیگ پی پی ایک ساتھ

اسلام آباد / مظفرآباد (اوصاف نیوز)آزاد کشمیر میں ممکنہ حکومت سازی کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطحی وفد نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں ملاقات کی، جس کے بعد مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف پیپلز پارٹی کی تحریکِ عدم اعتماد میں ووٹ کی صورت میں تعاون فراہم کرے گی، تاہم حکومت میں شامل نہیں ہوگی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے وزیراعظم چودھری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کا مسودہ تیار کر لیا ہے،

جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے نئے وزیراعظم کے نام کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔

نئے وزیراعظم کے لیے چودھری لطیف اکبر اور چودھری یاسین کے ناموں پر غور جاری ہے۔ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے علاوہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور، راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، نیئر بخاری، چودھری یاسین اور فیصل راٹھور بھی شریک تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے وفد میں احسن اقبال، رانا ثناءاللہ، امیر مقام اور مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر شامل تھے۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران آزاد کشمیر کی تازہ سیاسی صورتحال، آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر قمر زمان کائرہ نے صدرِ مملکت کو آزاد کشمیر کی پارلیمانی صورتحال پر بریفنگ دی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناءاللہ نے واضح کیا کہ لیگ (ن) پیپلز پارٹی کی تحریکِ عدم اعتماد میں تعاون کرے گی لیکن حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ ہم اپوزیشن میں بیٹھ کر جمہوری عمل کا حصہ بنیں گے۔”راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ قمر زمان کائرہ نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی جلد وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش کرے گی۔دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق نے ایک بار پھر مستعفی ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے ارکانِ اسمبلی کو اسلام آباد سے مظفرآباد پہنچنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ تحریکِ عدم اعتماد اسمبلی سیکرٹریٹ میں مشترکہ طور پر جمع کرائی جا سکے۔ مسلم لیگ (ن) کی حمایت کے بعد پیپلز پارٹی کو 52 رکنی ایوان میں 36 ارکان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے

، جو تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے کافی سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے واحد رکن اسمبلی حسن ابراہیم نے وزیراعظم کے خلاف تحریک میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔دریں اثناء، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائشگاہ پر ایک گھنٹہ طویل ملاقات کی۔

ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے امکانات اور پارلیمانی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ نیئر حسین بخاری، ہمایوں خان اور جمیل سومرو موجود تھے، جبکہ جے یو آئی (ف) کی جانب سے مولانا اسعد محمود اور مفتی ابرار شریک ہوئے۔

مزید پڑھیں: آمدن صفر ،ایف بی آر میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں

یہ بھی پڑھیں