Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

وفاقی حکومت کا24سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ

اسلام آباد(اوصاف نیوز) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت میں رائٹ سائزنگ کے تحت 39 وزارتوں کو ضم کیا جا رہا ہے جبکہ 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری رواں سال کے اختتام سے قبل مکمل کر لی جائے گی۔

کراچی میں “دی فیوچر سمٹ” کے نویں ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی ملک کے معاشی استحکام کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے پیداوار پر مبنی معیشت ناگزیر ہے، معیشت کو اب نجی شعبہ ہی لیڈ کرے گا۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت نجکاری کے ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے، جب کہ پی آئی اے اور تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارتوں کے انضمام اور غیر ضروری محکموں کی بندش پر 70 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے، ملازمین کو نجی شعبے کے مساوی پیکجز دیے جا رہے ہیں جبکہ پنشن اصلاحات بھی حکومتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے تیسرے بڑے فری لانسرز کے ملک کے طور پر ابھرا ہے، حکومت کا ہدف ہے کہ پاکستان کو برآمدات کے مرکز میں تبدیل کیا جائے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹائزیشن سے معیشت میں شفافیت بڑھے گی جبکہ بلیو اکانومی میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ گوگل پاکستان کو ایکسپورٹ ہب بنانے کا خواہاں ہے، جبکہ غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے پرکشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے چیلنجز پر فوری توجہ دینا ہوگی، کیونکہ ماحولیاتی فنڈز دستیاب ہیں جنہیں دانشمندی سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ایک گھونٹ کی قیمت لاکھوں میں !دبئی کی کافی نے دنیا کو حیران کر دیا

یہ بھی پڑھیں