Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

ایمان مزاری کے خلاف بڑا عدالتی فیصلہ سنادیا گیا!

اسلام آباد ( اوصاف نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے ججز کے خلاف بیانات پر دائر توہین عدالت کی درخواست خارج کردی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے حافظ احتشام کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔ ہائی کورٹ نے درخواست کو خارج کرتے ہوئے 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا۔

27 ستمبر کو نیشنل پریس کلب کے باہر ایمان مزاری سے منسوب تقریر کا متن بھی عدالتی فیصلے کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

عدالت کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق ایمان مزاری کی ججز سے متعلق تقریر حقائق کے منافی اور توہین عدالت ہے۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق توہین عدالت کی تین قسمیں ہیں، دیوانی، فوجداری اور عدالتی توہین عدالت۔ موجودہ پٹیشن عدالتی حکم عدولی کے لیے نہیں بلکہ عدالت کو سکینڈل کرنے سے متعلق توہین عدالت کے لیے ہے۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ایمان مزاری سے منسوب الفاظ سنی سنائی باتیں یا رائے ہیں جو آزادی اظہار کے آئینی حق میں آتے ہیں۔ ایمان مزاری نے اس عدالت کے کسی جج کا نام نہیں لیا اور نہ ہی ٹرائل کورٹ کے کسی جج کو نام لے کر نشانہ بنایا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ ایمان مزاری نے صرف عمومی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، ایسا کوئی مواد نہیں جس سے ثابت ہو کہ ایمان مزاری نے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر ایسا کہا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ توہین عدالت کا کیس اسی وقت بنتا ہے جب عدلیہ کو بدنام کرنے کا واضح ارادہ ہو۔
مزید پڑھٰیں‌:وفاقی آئینی عدالت کا سربراہ جسٹس امین الدین کو بنائے جانےکا امکان

یہ بھی پڑھیں