اسلام آباد (اوصاف نیوز) اسپین ویزہ اپائنٹمنٹ اسکینڈل کے حوالے سے حالیہ انکشافات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ سفارتخانہ اس سارے معاملے پر کسی بھی قسم کا مؤقف دینے سے مسلسل گریز کر رہا ہے۔ متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس نے شہریوں اور درخواست گزاروں کی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔
ویزہ سینٹر کے گرد ایجنٹوں کا گھیرا مزید تنگذرائع کے مطابق اسلام آباد میں قائم اسپین ویزہ سینٹر دراصل بھارتی کمپنی BLS کے انتظام میں کام کر رہا ہے۔ پاک–بھارت کشیدگی کے بعد کمپنی نے اپنا نام بدل کر “انتیانا” رکھ لیا، مگر نظام، طریقہ کار اور عملہ سب کچھ پرانا ہی برقرار ہے۔نام بدلنے کے باوجود کمپنی کا انتظامی ڈھانچہ، ویب سسٹم اور عملہ کسی بھی قسم کی تبدیلی کے بغیر اپنی سابقہ شکل میں موجود ہے،
جس نے اس پورے نظام پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔کنسلٹنسی کے نام پر کروڑوں کا کھیلاسلام آباد میں اسپین ویزہ سینٹر کے اردگرد موجود درجنوں کنسلٹنسی دفاتر اب بھی کھلے عام اپائنٹمنٹ کے سودے کر رہے ہیں۔ نئے انکشافات کے مطابق، ایجنٹس اپائنٹمنٹ دلوانے کے نام پر لاکھوں روپے طلب کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ وقفے کے بغیر جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر ایجنٹ مافیا سرگرمایجنٹوں کی سرگرمیاں اب صرف فزیکل دفاتر تک محدود نہیں رہیں۔ فیس بک گروپس، واٹس ایپ کمیونٹیز، انسٹاگرام پیجز اور ٹک ٹاک آئی ڈیز پر درجنوں نام نہاد “ویزہ فکسنگ ایکسپرٹس” سامنے آ رہے ہیں، جو اپائنٹمنٹ کی فوری دستیابی، ترجیحی فائل، یا بیک ڈور انٹری کے جھانسے دے کر سادہ لوح شہریوں سے پیسے بٹور رہے ہیں۔
ویزہ سینٹر میں سسٹم سست ہے اور اپائنٹمنٹ نہیں ملتی، جبکہ باہر ایجنٹس سریے کی طرح کھڑے ہیں۔ جس کے پاس پیسے نہیں، وہ مہینوں دھکے کھاتا ہے۔سفارتخانے کی خاموشی کیوں؟سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سفارتخانے کی مسلسل عدم دلچسپی اور جواب نہ آنے کی کیا وجہ ہے؟ پاکستان دفتر خارجہ کے مطابق یہ ایک اندرونی انتظامی معاملہ ہے، تاہم ایجنٹس کی بڑھتی سرگرمی، سوشل میڈیا پر دھوکہ دہی کی یلغار، اور سفارتی سطح پر خاموشی، سب مل کر اس اسکینڈل کو ایک بڑے قومی مسئلے کی شکل دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی فضائی حدود پھر بند ،بھارت میں کھلبلی مچ گئی
