Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوابڑی مشکل میں پھنس گئے؟

پشاور (اوصا ف نیوز) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے اس بیان کا سخت نوٹس لیا ہے جس میں انہوں نے ضمنی انتخاب میں تعینات سرکاری ملازمین کے لیے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے معاملے کی سنجیدگی دیکھتے ہوئے آج صبح ساڑھے 11 بجے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں سہیل آفریدی کے بیان، ضابطۂ اخلاق کی ممکنہ خلاف ورزی اور اس پر قانونی کارروائی کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ کے ترجمان کا مؤقف
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان نے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے کسی کو دھمکی نہیں دی بلکہ صرف قانون کے نفاذ کی بات کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیان کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور حکومت ہر صورت شفاف ضمنی انتخاب کو یقینی بنائے گی۔

متنازع بیان کیا تھا؟
چند روز قبل ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ 23 نومبر کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی امیدوار بیگم عمر ایوب دو لاکھ ووٹ لے کر کامیاب ہوں گی۔

انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر الیکشن کے دوران ’’ بدمزگی‘‘ ہوئی تو متعلقہ افسران ’’رات تک اپنے عہدوں پر نہیں رہیں گے‘‘۔

اسی بیان پر الیکشن کمیشن نے فوری نوٹس لیا ہے اور اب امکان ہے کہ ضابطۂ اخلاق اور انتخابی قوانین کی روشنی میں کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:سونے کی قیمت میں زبردست کمی،نئی قیمت کیا ہے ؟جانیے

یہ بھی پڑھیں