Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

افغان طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ملک قرار

اسلام آباد(اوصاف نیوز) انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ادارے کے مطابق اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اگر عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو اسلام آباد دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔

برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک جو معروف عالمی شخصیات نے قائم کیا، نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات شدید خراب ہو چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار ہے۔

2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2025 میں عسکریت پسندوں نے 600 سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو شہید کیا، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل صوبے ہیں۔

اسلام آباد ان حملوں کا الزام کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں پر عائد کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ شواہد کے مطابق انہیں پاکستان کے حریف بھارت کی حمایت حاصل ہے۔

برسلز میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق اگر عسکریت پسند حملے جاری رہے تو اسلام آباد ایک بار پھر افغانستان میں کارروائی کر سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مانیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہے تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہی نہیں جبکہ وہ تشدد کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

مغربی سرحد پر 8 اکتوبر کو ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکاروں کی شہادت کے بعد اسلام آباد نے سرحد پار فضائی حملے کیے جن میں کابل پر پہلا حملہ بھی شامل تھا، جس کا ہدف بظاہر ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود تھے۔افغانستان نے اس کے جواب میں پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔

جاری جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی اور شہری جانوں کا ضیاع ہوا۔رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر کسی اور حملے کا سراغ افغانستان سے ملا تو اسلام آباد دوبارہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔

اگرچہ طالبان حکومت عسکری لحاظ سے کمزور ہے، تاہم اس کا ردعمل بھی مہلک ہو سکتا ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں، جن کے استعمال سے پاکستان کی جانب سے بہت زیادہ سخت جواب متوقع ہوگا۔
مزید پڑھیں: افغان جنگجوؤں کو پاکستان میں استعمال نہ کیا جائے، حافظ گل بہادر کی ہدایت

یہ بھی پڑھیں