Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

200 ارب ڈالر کی جنگ! ایران پر حملے کی بھاری قیمت، امریکی وزیر دفاع کا بڑا اعتراف

واشنگٹن ; امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں کی بھاری لاگت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ “برے عناصر کے خاتمے کے لیے پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے”، جبکہ خلیجی ممالک کی حمایت کو سراہتے ہوئے یورپ کے محتاط رویے پر تنقید بھی کی۔
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے میڈیا بریفنگ میں انکشاف کیا کہ گزشتہ جمعہ کو امریکی سینٹکام اور اتحادی افواج نے ایران کے خارگ جزیرے پر 90 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں فضائی دفاعی نظام، بحری اڈے، بارودی سرنگوں کے ذخائر اور دیگر عسکری تنصیبات شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے دفاعی صنعتی نظام کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
جنرل ڈین کین نے امریکی پائلٹس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان پائلٹس انتہائی پیچیدہ مشنز کو انجام دیتے ہیں۔ وہ 24 گھنٹے پہلے سے اہداف کا جائزہ لیتے ہیں، موسم، ہتھیاروں اور پرواز کی حکمت عملی تیار کرتے ہیں، اور پھر کئی مرتبہ فضاء میں ایندھن بھروا کر طویل اور خطرناک مشن مکمل کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جنگی طیاروں کو دوران پرواز کئی بار ری فیولنگ کی ضرورت پڑتی ہے، جو ایک مشکل اور جسمانی طور پر تھکا دینے والا عمل ہوتا ہے، خاص طور پر بڑے بمبار طیاروں کے لیے۔
ایک صحافی کے سوال پر امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ آپریشن اپنے منصوبے کے مطابق جاری ہے اور اہداف کے حصول کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کارروائی کے لیے کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا، تاہم امریکی افواج کو تمام ضروری وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ انٹیلیجنس میں بہتری کے باعث اب اہداف کو زیادہ درستگی اور تیزی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے اہداف جو زیر زمین چھپے ہوتے ہیں اور اچانک سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس آپریشن کا دائرہ کار واضح ہے اور امریکی فوج مکمل اعتماد کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ حتمی کامیابی کا اعلان صدر کے فیصلے کے مطابق کیا جائے گا۔
ایک اور سوال کے جواب میں ہیگسیتھ نے خلیجی ممالک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا، جبکہ یورپی ممالک نے اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں سونے کی قیمت

یہ بھی پڑھیں