کراچی (اوصاف نیوز) ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود ایرانی کرنسی میں غیر معمولی بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس نے مالیاتی ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔
گوگل سرچ رزلٹس کے مطابق 15 اپریل کی صبح 1 کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 2120.32 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ تاہم اوپن مارکیٹ میں صورتحال اس سے خاصی مختلف ہے، جہاں ایک کروڑ ایرانی ریال 6 ہزار سے 9 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان ٹریڈ ہو رہا ہے، جو سرکاری یا آن لائن ریٹس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی اضافہ بنیادی طور پر قیاس آرائیوں پر مبنی خریداری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ سرمایہ کار تیزی سے ایرانی ریال خرید رہے ہیں کیونکہ مارکیٹ میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ مستقبل میں اس کرنسی کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور بعض حلقے 500 فیصد تک ممکنہ منافع کی بات بھی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور ممکنہ مذاکرات نے بھی مارکیٹ کے رجحانات پر اثر ڈالا ہے۔ تاجروں کو امید ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران پر عائد عالمی پابندیوں میں نرمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ایرانی کرنسی مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران امریکا کشیدگی سے قبل پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت تقریباً 2 ہزار سے 2 ہزار 500 روپے کے درمیان تھی۔ موجودہ صورتحال میں اچانک ہونے والا یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے دلچسپی کا باعث بن گیا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کاری احتیاط کے ساتھ کی جانی چاہیے۔
مزید پڑھیں:ایران نےکس کی جاسوسی سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، خفیہ دستاویزات میں بڑا انکشاف
