اسلام آباد(اوصاف نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کے مجوزہ تبادلوں کے معاملے میں دلچسپی رکھنے والے حلقوں کو اس وقت جزوی دھچکا لگا جب پیپلز پارٹی کے دباؤ کے باعث دو ججوں کے تبادلے کا فیصلہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق حکومتی سطح پر جاری مشاورت کے دوران پیپلز پارٹی کی مداخلت کے بعد جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس ارباب ایم طاہر کے نام عارضی طور پر تبادلے کی فہرست سے نکال دیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے بعد اس معاملے کو دوبارہ اٹھائے جانے کا امکان موجود ہے، جبکہ مستقبل قریب میں دونوں ججوں کے تبادلوں پر دوبارہ غور بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ پیشرفت حکومت کے اندر سے سامنے آنے والے ان سابقہ اشاروں کے برعکس ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے تحفظات کے باوجود آخرکار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں تمام مجوزہ تبادلوں کی حمایت کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے جسٹس خادم حسین سومرو کو سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس ارباب ایم طاہر کو بلوچستان ہائی کورٹ میں تعینات کرنے کی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
تاہم حکومتی حلقوں کو امید تھی کہ ووٹنگ کے وقت پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہو جائے گی، لیکن تازہ پیشرفت نے صورتحال بدل دی ہے۔
سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس معاملے کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور طاقت کے توازن کی نئی تصویر سامنے آئی ہے۔
مزید پڑھیں:شاہ چارلس متفق ہیں کہ ایران جوہری بم نہیں رکھ سکتا، ٹرمپ
