Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

بجٹ 2026-27: یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز پر ٹیکس، مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی نئی ڈیوٹی کی تجویز

اسلام آباد:(رضوان عباسی) وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ڈیجیٹل معیشت کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے لیے اہم اقدامات تجویز کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا ٹیکس کے تحت یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی سفارش کی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت بینک اور مالیاتی ادارے آن لائن مونیٹائزیشن، اسپانسرشپ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم پر ٹیکس کی کٹوتی کریں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور آن لائن کمائی کرنے والوں کو قومی ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہزاروں یوٹیوبرز، فری لانسرز، بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز متاثر ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب حکومت نے مہنگی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی نئی ٹیکس تجاویز پیش کی ہیں۔ بجٹ کے مطابق دو سے تین کروڑ روپے مالیت کی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جبکہ تین کروڑ روپے سے زائد قیمت والی گاڑیوں پر 40 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس وقت ان گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح صفر ہے۔

بجٹ میں عوامی فلاح کے بعض اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ فنانس بل کے مطابق خواتین کی ضروری اشیاء پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس، جسے عام طور پر “پنک ٹیکس” کہا جاتا ہے، ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح مانع حمل اشیاء پر عائد 18 فیصد ٹیکس کے خاتمے کی سفارش بھی سامنے آئی ہے۔

مزید برآں شپنگ انڈسٹری کے لیے 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے اور براؤن فیلڈ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے درآمدی مشینری پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ دینے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

سوشل میڈیا ٹیکس سمیت دیگر تجاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت محصولات بڑھانے کے لیے نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لا رہی ہے جبکہ عوامی ضروریات اور بعض صنعتی شعبوں کو ریلیف دینے کی پالیسی بھی اختیار کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں