Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

ٹاٹا آئی فون فیکٹری پر آلودگی کے الزامات، زرعی زمین اور پانی متاثر ہونے کا دعویٰ

بھارت میں ٹاٹا آئی فون فیکٹری ایک نئے تنازع کا شکار ہو گئی ہے، جہاں ماحولیاتی ریگولیٹری ادارے نے الزام عائد کیا ہے کہ فیکٹری سے خارج ہونے والے آلودہ پانی نے قریبی زرعی زمینوں اور زیر زمین پانی کو متاثر کیا ہے۔ حکام نے کمپنی کو وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

بھارتی ریاست تامل ناڈو کے شہر ہوسور میں قائم یہ فیکٹری آئی فون کے مختلف پرزے اور بیک پینلز تیار کرتی ہے۔ مقامی کسانوں نے کئی ماہ سے شکایت کر رکھی تھی کہ فیکٹری سے خارج ہونے والا پانی ان کے کھیتوں اور کنوؤں کو آلودہ کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق شکایات کے بعد متعلقہ ماحولیاتی ادارے نے دسمبر 2025 سے مئی 2026 کے دوران متعدد معائنے کیے۔ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ فیکٹری کا فضلہ ایک بارش کے پانی کے ذخیرے میں ڈالا جا رہا تھا، جو بعد ازاں اوور فلو ہو کر قریبی علاقوں تک پہنچا اور زیر زمین پانی کے معیار کو متاثر کرنے کا سبب بنا۔

دوسری جانب ٹاٹا آئی فون فیکٹری کی انتظامیہ نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک آزاد اور منظور شدہ لیبارٹری کے ذریعے کیے گئے تجزیے میں فیکٹری کو تمام ماحولیاتی قوانین کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ ماحولیات اور مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ کاروباری پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل اپنی پیداوار کا بڑا حصہ چین سے بھارت منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو یہ معاملہ نہ صرف ٹاٹا بلکہ ایپل کی سپلائی چین کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

بھارتی حکام نے کمپنی سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے جبکہ آئندہ کارروائی کا فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا

یہ بھی پڑھیں