اسلام آباد: نجی ہاؤسنگ منصوبے کے متاثرین نے زیم بلڈر اینڈ ڈویلپر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ذیشان اکرم قریشی کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر شہریوں اور اوورسیز پاکستانیوں سے کروڑوں روپے وصول کیے گئے، تاہم نہ انہیں وعدے کے مطابق ملکیت دی گئی اور نہ ہی منصوبے مکمل کیے گئے۔
پریس کانفرنس کے دوران متاثرین نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی نے بحریہ ٹاؤن میں چند پلاٹس اور گرے اسٹرکچر گھروں کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر تشہیری مہم چلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو منافع بخش سرمایہ کاری کے نام پر راغب کیا گیا، مگر کئی منصوبے آج بھی نامکمل پڑے ہیں جبکہ بعض مقامات پر تعمیراتی کام کا آغاز تک نہیں ہو سکا۔
متاثرین کے مطابق جب سرمایہ کاروں نے اپنی رقم کی واپسی یا منصوبوں کی پیش رفت کے بارے میں استفسار کیا تو انہیں غیر سنجیدہ رویے اور مبینہ دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال کے بعد متاثرہ افراد نے متحد ہو کر قانونی کارروائی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔
ریٹائرڈ کرنل عرفان نے دعویٰ کیا کہ متعدد درخواستیں اور شواہد فراہم کرنے کے باوجود مقدمات کے اندراج میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ذیشان اکرم قریشی کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں، جبکہ ایک مقدمے میں انہیں اشتہاری قرار دیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا، تاہم اب تک کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔
پریس کانفرنس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ زیم بلڈر اینڈ ڈیولپر کے ایک بڑے منصوبے کے متاثرین کی رقم 80 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ متاثرین نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ الزامات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ سرمایہ کاروں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
نوٹ: مذکورہ الزامات متاثرین کی جانب سے پریس کانفرنس میں عائد کیے گئے ہیں، جن پر متعلقہ فریق کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

