Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

ایران جنگ کے بعد نئے علاقائی اتحاد کی بازگشت، پاکستان سمیت پانچ ممالک کے نام زیرِ گردش

اسلام آباد: ایران جنگ کے بعد نیا علاقائی اتحاد تشکیل دیے جانے کی اطلاعات نے خطے کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں ایک ممکنہ علاقائی تعاون کے ڈھانچے پر غور کیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ، قطر اور مصر کے نام بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔

بین الاقوامی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال نے خلیجی ممالک کو سلامتی، تجارت اور معیشت کے حوالے سے نئے چیلنجز کا سامنا کرایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہی حالات کے باعث خطے میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ تعاون خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے روایتی دائرہ کار سے وسیع ہو سکتا ہے، جس میں سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، قطر اور مصر کے درمیان سلامتی، دفاع، سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کی تجاویز زیر غور ہیں۔

بعض اسرائیلی ذرائع نے اس ممکنہ تعاون کو “اسلامک نیٹو” کا نام دیا ہے، تاہم اس اصطلاح یا کسی نئے اتحاد کی متعلقہ ممالک نے باضابطہ توثیق نہیں کی۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں ایسا کوئی اتحاد وجود میں آتا ہے تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ، خلیجی خطے اور جنوبی ایشیا کی سیاسی و دفاعی صورتحال پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران جنگ کے بعد نیا علاقائی اتحاد کے حوالے سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور مصر کی حکومتوں کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری اعلان یا مشترکہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے سرکاری مؤقف اور آئندہ سفارتی پیش رفت کا انتظار ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں