Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

کاہنہ سانحے کے بعد پنجاب بھر میں غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹرز کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

لاہور: کاہنہ سانحے کے بعد غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹرز کے خلاف پنجاب حکومت نے سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ رجسٹریشن اور حفاظتی تقاضے پورے نہ کرنے والے ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز کو فوری طور پر بند کیا جائے گا۔

وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر کے مطابق لاہور میں قائم 760 ایسے ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز کی نشاندہی کی گئی ہے جو مطلوبہ رجسٹریشن کے بغیر کام کر رہے تھے۔ ان کے خلاف کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ یہی مہم پنجاب کے دیگر اضلاع تک بھی وسیع کی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ صرف وہی اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کام کر سکیں گے جو متعلقہ اداروں سے رجسٹرڈ ہوں گے اور جن کے پاس عمارت کی مضبوطی اور حفاظتی معیار سے متعلق فٹنس سرٹیفکیٹ موجود ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ طلبہ کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ کئی نجی تعلیمی ادارے اور غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹرز قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سرگرم تھے، جس کے باعث ایسے مراکز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ رجسٹریشن کے عمل کو جلد مکمل کرایا جائے اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد باغبان پورہ میں بھی ایک اسکول کی چھت گرنے سے ایک طالب علم جان کی بازی ہار گیا، جبکہ کئی بچے زخمی ہوئے۔

ان واقعات کے بعد محکمہ تعلیم نے تمام نجی اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کی جانچ پڑتال، رجسٹریشن اور عمارتوں کے حفاظتی معائنے کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں