اسلام آباد: ٹیکسٹائل برآمدات کے شعبے کو جون 2026 کے دوران نمایاں جھٹکا لگا، جہاں ماہانہ اور سالانہ دونوں بنیادوں پر برآمدات میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ تازہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برآمدی شعبے کی کارکردگی نے معاشی ماہرین اور صنعتکاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر وائی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات ایک ارب 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں، جبکہ مئی 2026 میں یہی برآمدات ایک ارب 65 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھیں۔ اس طرح صرف ایک ماہ کے دوران برآمدات میں 22.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو برآمدی صنعت کے لیے تشویشناک سمجھی جا رہی ہے۔
سالانہ بنیادوں پر بھی صورتحال حوصلہ افزا نہیں رہی۔ جون 2025 میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات ایک ارب 52 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھیں، جو جون 2026 میں کم ہو کر ایک ارب 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک ریکارڈ کی گئیں۔ اس طرح ایک سال کے دوران 15.77 فیصد کمی سامنے آئی۔
تاہم مجموعی مالی سال 2025-26 کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کسی حد تک مختلف نظر آتی ہے۔ پورے مالی سال کے دوران پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 17 ارب 97 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال 2024-25 میں یہ حجم 17 ارب 91 کروڑ ڈالر تھا۔ اس طرح مجموعی طور پر 0.34 فیصد معمولی اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جون میں اچانک آنے والی کمی کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ برآمدی شعبے کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی جا سکے۔ صنعت سے وابستہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر کو توانائی، خام مال، مالی سہولتوں اور برآمدی مراعات کے حوالے سے مزید تعاون فراہم کرے تو آئندہ مہینوں میں برآمدات دوبارہ بہتر سطح پر آ سکتی ہیں۔
کاروباری برادری کا بھی مطالبہ ہے کہ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے برآمد کنندگان کو سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ ملک کی برآمدات میں پائیدار اضافہ ممکن ہو سکے۔

