Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

لاہور کینٹ میں اسپینش مغویہ خاتون کا جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے سنسنی خیز اعتراف سامنے آگیا

لاہور(نیوز ڈیسک)لاہور کینٹ میں اسپینش مغویہ خاتون کا جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے سنسنی خیز اعتراف،
خاتون کا بیان ہے کہ مرکزی ملزم محمد رضا ڈار سے پہلی ملاقات سنگاپور کے کرپٹو ایونٹ میں ہوئی،ملزم رضا ڈار خود کو وفاقی وزیر علی ڈار کا بیٹا ظاہر کرتا تھا۔

تصدیق کے لیے انسٹاگرام دیکھا تو ملزم کی وزیر علی ڈار کے ساتھ گلے ملنے کی تصویر تھی،ملزم رضا ڈار کے واٹس ایپ پر پاکستان کے سابق وزیر اعظم کے ساتھ بھی تصویر لگی تھی،ہمیں ایک نامعلوم گھر میں لے جایا گیا جہاں اچانک 4 مسلح افراد نے دھاوا بولا،مسلح افراد نے آتے ہی ہمیں رسیوں سے جکڑ دیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

ملزمان نے میرے چہرے پر پے در پے کئی مکے مارے اور میرے جوتے تک اتار دیے، ملزم رضا ڈار کمپیوٹر لے کر آیا اور ہم سے بزنس اکاؤنٹس کے پاس ورڈز مانگے،
پاس ورڈ دینے سے انکار پر بندوق بردار ملزمان نے میرے سر پر شدید ضربیں لگائیں،ملزمان نے ہم سے زبردستی 7 لاکھ ڈالرز اور 8 لاکھ ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا۔

خوف کے مارے تاوان کی رقم یعنی 8 لاکھ ڈالرز گھر کی دیواروں پر لکھ دیے،اپنے تمام کانٹیکٹس اور سٹیفنی کی ماں کو پیسوں کے لیے وائس نوٹس بھیجنے پر مجبور کیا گیا۔

مجھے سٹیفنی سے الگ کر کے دوسری منزل پر واقع ایک بیڈ روم میں منتقل کیا گیا،ایک ملزم انگریزی بولتا تھا، اس سے پوچھا کیا تم ہمیں مار دو گے؟ ملزم نے جواب دیا کہ اگر پیسہ مل گیا تو جان بچ جائے گی ورنہ گولی مار دیں گے،کالے لباس میں ملبوس شخص نے رائفل بردار ملزم کی موجودگی میں مجھ پر جنسی تشدد کیا،ملزم نے بندوق کی نوک پر میرے کپڑے اتارے اور زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا، خاتون کا لرزہ خیز بیان۔

ملزمان آپس میں صرف اردو بولتے تھے، وہ مجھ پر ہنستے اور بار بار جنسی مطالبات کرتے،جب میں روتی اور چیختی تو ملزم مجھے تھپڑ مارتا اور منہ بند رکھنے کی دھمکی دیتا،بوڑھے ملزم نے واکنگ کلوزٹ میں لے جا کر میری گردن پر چھری رکھی اور دھمکی دی،ملزمان نے شیشے کا ٹکڑا دکھا کر میرا جسم کاٹنے کی دھمکی دی، خاتون کا سنسنی خیز انکشاف۔

حبسِ بے جا کے آخری دن کالے لباس والے ملزم نے دوبارہ غیر فطری جنسی زیادتی کی،ملزمان اپنے گھر والوں کو ویڈیو کالز کر کے ہمیں اور اپنے ہتھیار لائیو دکھاتے رہے،آخری دن ملزم رضا ڈار گاڑی لے کر آیا اور کہا کہ تاوان کی رقم کا بندوبست ہو گیا ہے،گاڑی میں سٹیفنی پچھلی سیٹ پر جبکہ میں اگلی سیٹ پر رضا ڈار کے ساتھ بیٹھی تھی، خاتون کا اعتراف،دورانِ سفر چالاکی سے ہمارے پاسپورٹ ملزم کی ٹانگ کے پاس سے اٹھا کر چھپا لیے،ملزم رضا گاڑی چلاتے ہوئے فون پر کسی کو ہماری لائیو لوکیشن بھیج رہا تھا، خاتون کا انکشاف۔

ہمیں خطرے کا احساس ہوا تو گاڑی تیز کرنے کا کہا جس پر ملزم نے آگے کار مار دی،گاڑی ٹکراتے ہی سٹیفنی اور میں نے چلتی کار سے چھلانگ لگا دی اور سڑک پر چیخنا شروع کیا،ہم بھاگ کر ‘فلٹر ہاؤس’ نامی مکینک کی دکان پر پہنچے جہاں سے پولیس کو بلایا،ٹریفک پولیس اہلکاروں نے آ کر کہا کہ گاڑی میں موجود شخص ان کا باس ہے اس کے ساتھ جاؤ،مذکورہ پولیس اہلکاروں نے ایئرپورٹ کا وعدہ کیا لیکن گاڑی خراب ہونے کا جھوٹ بولا، ہم اس مشکوک پولیس گاڑی سے بھی کود گئے جس کے بعد لیڈیز پولیس موبائل آئی، لیڈیز پولیس اہلکاروں کی آمد کے بعد ہم نے خود کو محفوظ تصور کیا اور تھانے پہنچیں۔

یہ بھی پڑھیں