Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

پیٹرول سستا، مہنگائی کے ستائے عوام پر نیا بوجھ

اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کے بعد ملک بھر میں مہنگائی کے ستائے عوام پر ایک اور مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کے اعلان کے ساتھ ہی مٹی کے تیل کے نرخ بڑھا دیے گئے، جس سے بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے صارفین متاثر ہوں گے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 9 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی سرکاری قیمت 231 روپے 14 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ نئی قیمتوں کا فوری اطلاق بھی کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے حالیہ پندرہ روزہ جائزے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپے 97 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 297 روپے 53 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول میں معمولی کمی کے باوجود مٹی کے تیل کی قیمت بڑھنے سے عام شہریوں کو خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکے گا۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق پیٹرولیم لیوی میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے۔ پیٹرول پر لیوی بڑھا کر 70 روپے 36 پیسے فی لیٹر کر دی گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر بھی نئی شرحیں نافذ کر دی گئی ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق مٹی کا تیل اب بھی ملک کے کئی دیہی اور پہاڑی علاقوں میں گھریلو استعمال، کھانا پکانے اور حرارت کے لیے بنیادی ایندھن ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ براہ راست کم آمدن والے طبقے کے اخراجات میں اضافہ کرے گا۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں بنیادی ضرورت کی اشیا اور ایندھن کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں