نئی دہلی: مودی ایوارڈ تنازع ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے، جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سیشلز کے دورے کے دوران ملنے والے ایک اعزازی سرٹیفکیٹ پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور متعدد صارفین نے سرٹیفکیٹ کی اصل حیثیت پر اعتراضات کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سیشلز کے صدر نے اپنے ملک کے اعلیٰ اعزاز “گارڈین آف دی بلیو ہورائزن” سے نریندر مودی کو نوازا۔ تاہم تقریب کے بعد سرٹیفکیٹ کی تصاویر سامنے آنے پر بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ اس میں “ریپبلک” اور “سیشلز” جیسے الفاظ کے ہجے غلط درج تھے۔
چند سوشل میڈیا صارفین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مختلف آن لائن اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز نے سرٹیفکیٹ کو مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ قرار دیا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ ایسے اعزازات کی شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس اعزاز کو بھارت کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی سطح پر نریندر مودی کی قیادت اور ماحولیاتی خدمات کا اعتراف ہے۔
دریں اثنا سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں سرٹیفکیٹ کا ایک غیر حتمی مسودہ غلطی سے منظر عام پر آ گیا تھا۔ وزارت کے مطابق بعد میں درست اور باضابطہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا، جبکہ “گارڈین آف دی بلیو ہورائزن” اعزاز مکمل طور پر حقیقی اور سرکاری اعزاز ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مودی ایوارڈ تنازع نے ایک بار پھر ان بین الاقوامی اعزازات پر بحث چھیڑ دی ہے جو حالیہ برسوں میں بھارتی وزیر اعظم کو مختلف غیر ملکی دوروں کے دوران دیے گئے۔ ناقدین انہیں سیاسی تشہیر کا حصہ قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ اعزازات بھارت کے عالمی کردار کے اعتراف کی علامت ہیں۔
