راولپنڈی (نیوڈیسک) راولپنڈی گیریژن سٹی کی ایک عدالت نے جمعرات کو ایک خاتون کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست نمٹا دی، جس نے رواں سال موٹروے پولیس کے ایک اہلکار پر جان بوجھ کر گاڑی چڑھا دی تھی۔سول جج ڈاکٹر ممتاز ہنجرا نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ درخواست مسترد کرنے کیلئے کافی شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کیس میں فوری ضمانت کا مستحق نہیں ہے۔وکیل دفاع نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو سیشن کورٹ میں چیلنج کریں گے۔اس ماہ کے شروع میں، عدالت نے اس خاتون کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کیا، جس نے موٹروے پولیس اہلکار پر اپنی کار چڑھانے کی کوشش کی تھی۔
پولیس نے خاتون کو پیش کر کے تفتیش کیلئے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی تھی۔سماعت کے دوران وکیل دفاع کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ یکم جنوری کو پیش آیا، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔انہوں نے کہا کہ واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا، اس کیس میں جسمانی ریمانڈ منظور نہیں کیا جا سکتا۔
امریکہ اور ایران کیساتھ اچھے تعلقات، کسی کو بھی اڈے فراہم نہیں کئے، دفترخارجہ
وکیل نے عدالت سے کیس نمٹانے کی استدعا کی۔جب عدالت نے کیس میں دفعہ 324 (قتل کی کوشش) کو شامل کرنے کے بارے میں پوچھا تو استغاثہ کی جانب سے کہا گیا کہ خاتون نے جان بوجھ کر موٹروے پولیس اہلکار کو گاڑی ٹکرائی کیونکہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سنگین جرم ہے۔بعد ازاں فاضل جج نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اس سے لیڈی پولیس اہلکار اور جیل افسر کی موجودگی میں پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔عدالت کے حکم پر خاتون ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایک روز قبل، پولیس نے موٹروے پولیس کے اہلکار پر چڑھ دوڑنے کی کوشش میں ملوث خاتون کو گرفتار کر لیا ہے، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے چند دن بعد گرفتار کی گئی تھی۔

