لاہور: سول کورٹس کی تقسیم اور ساتھیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات کے خلاف مظاہرہ کرنے والے وکلاء کی جانب سے جی پی او چوک پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کے بعد بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے قریب افراتفری مچ گئی۔
احتجاج کرنے والے وکلاء نے ہائی کورٹ کے احاطے کے اطراف سے رکاوٹیں ہٹا کر اندر جانے کی کوشش کی اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔
اس دوران پولیس نے وکلا کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور شیلنگ شروع کر دی اور عدالت کے مین گیٹ تک ان کا راستہ روک دیا۔
وکلا کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس واٹر کینن کا بھی استعمال کر رہی ہے۔
مزید پرھیں : پمپ مالکان پٹرول کی قیمتیں خود طے کریں گے ؟؟؟ بڑی خبرآ گئی ،دیکھیں
لاہور ہائی کورٹ کے ججز گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جب کہ پولیس نے احتجاج کرنے والے دو وکلا کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔
ادھر مال روڈ اور ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
کم از کم دو سے تین درجن وکلاء عدالت کے باہر پرامن طور پر احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ پولیس نے انہیں آگے نہ بڑھنے کی تنبیہ کی ہے۔ تاہم پولیس نے کہا کہ اگر وکلاء اس عمل میں تشدد کا استعمال کرتے ہیں تو وہ گرفتار کر لیں گے۔
مقامی انتظامیہ کو ایک روز قبل ہی احتجاجی مظاہرے کا علم تھا جبکہ حکام کی جانب سے وکلا سے بات چیت کے لیے کوئی بھی موقع پر نہیں پہنچا۔
دوسری جانب وکلا عدالت کے احاطے میں جانے کی اجازت دینے پر بضد ہیں اور پولیس کی جانب سے انہیں داخلے سے روکنے کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔



