Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں نقدروپوں کے استعمال پر پابندی ،شعبےمیں اہم اصلاحات کا بھی فیصلہ

کراچی: رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کیش کے استعمال پر پابندی اور اس شعبے میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیئرمین مشتاق احمد سکھیرا کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنانسنگ ٹیررازم اتھارٹی کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں گریڈ 21 کے افسر احسن صادق کو اتھارٹی کا ڈائریکٹر جنرل بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق مئی کے پہلے ہفتے میں ہونے والے اجلاس میں نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنانسنگ ٹیررازم اتھارٹی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں جس میں نقد رقم کے استعمال پر پابندی اور حقیقی معنوں میں اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ سیکٹر. دستاویزات کے مطابق اجلاس میں نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنانسنگ ٹیررازم اتھارٹی کو فعال کرنے کے لیے ملازمین کو ڈیپوٹیشن پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ قواعد و ضوابط کی تیاری کے بعد عملے کو مستقل بنیادوں پر بھرتی کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:  قومی ادارہ صحت نے کانگو بخار ٹائیفائیڈ اورہیٹ اسٹروک سے متعلق ایڈوئزری جاری کر دی ، دیکھیں

اس کے علاوہ منظم جرائم میں نقدی کے استعمال کے خاتمے کے لیے اندرونی قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا، جب کہ سال 2024-2025 کے لیے اتھارٹی کے لیے 300 ملین روپے رکھنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اجلاس میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں اصلاحات کے لیے صوبوں سے تجاویز طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں کہا گیا کہ غیر رجسٹرڈ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بھی منی لانڈرنگ کا حصہ ہے اور اس سے ملک کو بھاری ریونیو کا نقصان ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں