Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

حیسکو کی کارروائیاں،215 بجلی چور گرفتار، 12ارب72کروڑ32لاکھ سے زائد کی ریکوری

حیدرآباد(نیوزڈیسک) حیسکو ترجمان نے بتایا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر حیسکو محمد روشن اوٹھو کی ہدایات ہیں کہ انرجی/ پاور سیکٹر کے سرکیولر ڈیبٹ کو کم کرنے کے لئے لاسز کم کرنے ہونگے، اور ریکوری بڑہانی ہوگی، جس کے لئے حیسکو ریجن میں سند ہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی مدد سے بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری ہیں اور ساتھ ساتھ ریکوری مجسٹریٹ بھی موجود ہیں جو موقع پر ہی بجلی چور وں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائیں گے جس میں جرمانہ عائد کیا جائے گا، مقدمہ بھی درج ہوگا اور فوری گرفتار ی بھی عمل لائے جا سکے گی.

حیسکو ترجمان نے جاری ایک بیان میں‌کہاکہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم کی ہدایات ہیں، کہ انرجی/ پاور سیکٹر کے سرکیولر ڈیبٹ کو کم کرنے کے لئے اینٹی تھیفٹ ریکوری مہم مزید تیز کی جائے تاکہ عوام کو بہتر بجلی کی سہولت فراہم کی جاسکے حیسکوچیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد روشن اوٹھو کی زیر نگرانی جاری انسداد بجلی چوری مہم کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ریجن بھر میں 374کنیکشن پکڑے گئے،جن میں سے354کے خلاف مختلف تھانوں FIRدرج کرانے لیٹر جمع کرادئے گئے ہیں جس میں 2ایف آئی ار درج ہوچکی ہیں۔ پکڑے جانے والے کنکشنز میں 11کمرشل اور363گھریلو تھے۔

تمام کنکشنز منقطع کرکے انکو188190 (1لاکھ 88ہزار190) یونٹس ڈٹیکشن بل کی مد میں چارج کئے گئے ہیں جن کی مالیت4533431 (45لاکھ 33ہزار 431) روپے ہے۔تفصیلات کے مطابق 7ستمبر 2023 سے اب تک بجلی چوروں کے خلاف جاری آپریشن کے278روز سے جاری آپریشن کے دوران کل12ارب72کروڑ32 لاکھ سے زائد کی ریکوری کی جا چکی ہے70669ملزمان بجلی چوری میں ملوث پائے گئے۔

ترجمان حیسکو کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق انسداد بجلی چوری مہم کے دوران اب تک 215ملزمان کو گرفتار کیا گیا،1ملازم کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا، 3ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا،44ملازمین کو معطل کردیا گیا، مجموعی طور61995کنکشن کیخلاف ایف آئی آر کی درخواستیں جمع کروائی گئیں جن میں 5324 درخواستیں رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔بجلی چوروں کو اب تک36.83(3کروڑ68لاکھ) سے زائد یونٹس چارج کئے گئے ہیں جن کی مالیت1064.92 (1ارب 6کروڑ 49 لاکھ)سے زائد ہے۔

واضح رہے بجلی چوروں کیخلاف آپریشنز وفاقی پاور ڈویژن کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق کیئے جا رہے ہیں۔

حیسکو چیف کی واضح ہدایات ہیں کہ بجلی چوری کے مکمل خاتمے تک بلا تفریق گرینڈ آپریشن جاری رہے گا۔ آپریشن کے دوران بجلی چوروں کے ساتھ ساتھ ان کی سرپرستی کرنیوالے حیسکو افسران و ملازمین کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

حیسکو ایک کمرشل ادارہ ہے جو سی پی پی اے سے بجلی خرید کر اپنے معزز صارفین تک ترسیل کرتا ہے، اس لئے ہم سب پر واجب ہے کہ ہم حیسکو کی ترقی کے لئے جنگی بینادوں پر ہر کام کریں، ایس ڈی اوز روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ جمع کرائیں پیٹرولنگ بک میں بھی باقائدگی سے اندراج کریں.

واضح رہے کہ یہ سلسلہ وزیر اعظم پاکستان اور وزارت توانائی کے احکامات پر پورے ملک میں دوسری تقسیم کار کمپنیوں کی طرح حیسکو میں بھی بجلی چوری کے خاتمہ تک آپریشن جاری رہے گا.

بجلی چوری کا خاتمہ اور واجبات کی ادائیگی لازمی کرائیں، سیفٹی کے اصولوں کے مطابق اپنی ڈیوٹی سرانجام دیں۔ چوکیدارہ نظام کے تحت کارروائیاں مزید تیز کریں کسی بھی بجلی چور کو نہیں چھوڑینگے،بجلی چور ہمارا دشمن ہے، بجلی چوری کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے جس کا مکمل خاتمہ کیا جائے، آسان اور فوری بجلی کے نئے کنکشنوں کی سہولتیں دی جارہی ہے اور بجلی کے بل کے متعلق کسی بھی قسم کے مسائل کوحل کرنے کے لئے کسی بھی سب ڈویژن کسٹمر سروس سینٹر یا کمپلینٹ سینٹر سے رجوع کریں.

مزید حیسکو کی ویب سائٹ www.hesco.gov.pk سے ڈپلیکیٹ بل پرنٹ کرواکر دورانِ تاریخ بل کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ کیونکہ حیسکو ادارہ ہے جو بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے بغیر اپنا نظام نہیں چلا سکتا،بجلی چوری میں ملوث کسی بھی فرد کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ چاہے وہ حیسکو ملازم ہی کیوں نہ ہو،اس کے خلاف مروجہ قانون کے مطابق قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔

مزید براں حیسکو چیف نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ اپنے تمام واجبات فی الفور اداکر یں تا کہ بجلی کی ترسیل بلا تعطل فراہمی کی جا سکے، انہو ں نے کہا بجلی چوری قانونی اور اخلاقی جرم بھی ہے جو بھی مجرم پکڑا گیا تواس کے خلاف مروجہ قانون کے تحت FIR درج اور جرمانہ کر کے حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں