وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سندھ کا بجٹ پیش کررہے ہیں۔سندھ اسمبلی میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ انگریزی میں بجٹ تقریر کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے مسلسل چوتھی بار پاکستان پیپلزپارٹی کو منتخب کیا ہے، اس ایوان نے مجھے مسلسل تیسری بار وزیراعلی سندھ منتخب کیا ہے، وزیراعظم شہبازشریف کا مشکور ہوں امید ہیں کہ وہ تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ میں آج سندھ کا 30 کھرب 56 ارب کا بیلنس بجٹ پیش کر رہا ہوں، پاکستان پیپلز پارٹی کو چوتھی بار عوام نے منتخب کیا، ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ ہے، ہم مسلسل ڈیلیوری کر کے اس بھروسے پر پورا اتر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 5 سال معاشی اعتبار سے کافی مشکل تھے، 2020 کے شروعات میں کووڈ آیا، کراچی کو بھی بدترین بارشوں کا سامنا رہا، کافی علاقے بارشوں کے باعث زیر آب آئے، پھر 2022 میں سیلاب نے سندھ کو شدید متاثر کیا لیکن اس کے ابوجود ہم نے کام کیا۔
انہوں نے بتایا کہ میں اپنی لیڈرشپ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میری دعا ہے کہ اللہ مجھے ان کی امیدوں پر پورا اترنے کی توفیق دے، میں شہباز شریف کا بھی شکرگزار ہوں جن کے ساتھ ہم نے کام کیا اور امید ہے کہ وہ ہماری حمایت جاری رکھیں گے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس الیکشن میں پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹس حاصل کیے، بنظیر بھٹو نے اپنے والد کے مشن کو پورا کرنے میں اپنی زندگی صرف کردی، صدر زرداری اور بلاول بھٹو نے بہتر کل کا وعدہ کیا ہے اور ہم اس راہ پر گامزن ہیں، اسی وجہ سے لوگوں نے ہمیں منتخب کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عوامی لائبریریز کی سہولیات بڑھانے کے لیے 21کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، صحت کے لیے 334 ارب رکھے گئے ہیں جن میں 302 ارب موجودہ اخراجات کے لیے مختص ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کے لیے 56 ارب روپے مختص کیے گئے، ورکس اینڈ سروسز کے لیے 86 ارب روپے مختص کئے ہیں، ایس جی اینڈ سی ڈی کے لیے 153 ارب روپے رکھے گئے ہیں، داخلہ کے لیے 194 ارب روپے شامل ہیں۔وزیر اعلٰی سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے سندھ گیمز کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کردیے ہیں، گرانٹس کی مد میں یونیورسٹیز کے لیے 35 ارب مختص کیے گئے ہیں، فنڈنگ کا مقصد تعلیمی نظام کو مضبوط کرنا ہے،
