واشنگٹن (انٹرنیشنلڈیسک )بھارت اور پاکستان ٹوٹنے والے ہیں، ماہرین ارضیات نے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کا ایک بڑا حصہ دونوں سے علیحدہ ہونے والا ہے اور ایسا جلد ہی ہوگا۔
دسمبر 2023 میں ایک تحقیقاتی مطالعہ شائع ہوا جس نے سب کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔
اس مطالعے کے مطابق برصغیر دوحصوں میں تقسیم ہونے والا ہے، اور اس بٹوارے میں سب سے بڑا خطرہ پاکستان کے گلگت بلتستان، بھارتی علاقوں لداخ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش کو ہے۔
5 مئی 2022 کو صبح 11 بجے تبت کے پاس ہی چینی علاقے سیچوان میں ایک زبردست زلزلہ آیا، یہ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ تمام عمارتیں چند ہی منٹوں میں درخت کے سوکھے پتوں کی طرح بکھر گئیں اور 100 کے قریب لوگ مارے گئے۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ زلزلہ تبت میں پچھلے پانچ سالوں میں آنے والا 2046واں زلزلہ تھا، یعنی پچھلے پانچ سالوں میں ایک ہی جگہ پر دو ہزار سے زیادہ زلزے آئے۔ یہی وجہ تھی کہ پوری دنیا سے ماہرین ارضیات (جیولوجسٹس) تبت میں جمع ہونا شروع ہوگئے تاکہ اتنی بڑی تعداد میں زلزلوں کی وجہ جان سکیں۔
یہ جیولوجسٹس جب تحقیق کرتے ہوئے ناردرن انڈین ٹیکٹانک پلیٹس تک پہنچے تو یہاں انہوں نے ایک ایسے عجیب قدرتی مظہر کا مشاہدہ کیا جو اس سے پہلے شاید کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ صرف 2023 میں شمال مشرقی بھارت اور نیپال میں 97 زلزلے آئے تھے جو 2021 اور 22 کے مقابلے میں دوگنے تھے۔
شروع میں تو سب ہی جیولوجسٹس کو یہی لگا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علاقہ دو ٹیکنانک پلیٹس ”انڈین اور یوریشین پیلیٹس“ کی باؤنڈری پر ہے، اسی لئے شاید یہاں اتنے زلزلے آرہے ہیں، کیونکہ ٹیکٹانک پلیٹس کی باؤنڈری پر ایسے زلزلے آنا ایک عام بات ہے۔
لیکن بات صرف اتنی سادہ نہیں تھی۔
ان دونوں ٹیکٹانک پلیٹس کی باؤنڈری صرف ان پاکستانی اور بھارتی علاقوں کو نہیں لگتی جن کا ذکر اوپر کیا گیا، بلکہ یہ کراچی سے لے کر لداخ تک اوپر کی طرف جاتی ہے، پھر تبت اور اروناچل پردیش سے ہوتے ہوئے بالآخر میانمار سے نیچے آتی ہے۔
اگر یہ زلزلے ٹیکٹانک پلیٹس کی باؤنڈری پر ہونے کی وجہ سے تھے تو یہ پاکستان اور میانمار میں بھی آںے چاہیے تھے، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور پچھلے چھ سالوں میں اس پوری باؤنڈری پر صرف چار سے پانچ زلزلے آئے۔
اس کا مطلب تھا کہ اس ناردرن باؤنڈری پر ٹیکٹانک پلیٹس کی موومنٹ کے علاوہ کچھ اور بھی ہو رہا ہے جس سے اس علاقے میں اتنے زیادہ زلزلے آرہے ہیں۔
دراصل ہمیں شروع سے یہ بتایا گیا ہے کہ ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ انڈین اور یوریشین ٹیکٹانک پلیٹس کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے تشکیل پایا، لیکن یہ آدھا سچ ہے۔
اصل میں آج سے 100 ملین سال پہلے انڈین اور یوریشین پلیٹس کے بیچ ایک سمندر تھا جسے ”ٹیتھس“ سمندر کہتے تھے اور اس سمندر کے نیچے ایک اور پلیٹ تھی جسے ”شیروڈا پلیٹ“ کہا جاتا ہے۔
جن انڈین اور یوریشین پلیٹس آپس میں ٹکرائیں تو یہ شیروڈا پلیٹ ان کے نیچے دب گئی، اور جب جیولوجسٹس نے تحقیق کی تو پایا کہ مذکورہ تمام علاقے اس جگہ پر ہیں جہاں سے شیروڈا پلیٹ، انڈین اور یوریشین پلیٹ کے نیچے دبی تھی۔
جہاں پورے ایریا میں اس پلیٹ کی چوڑائی 100 کلومیٹر تھی ، وہیں تبت میں یہ پلیٹ 80 کلو میٹر چوڑی تھی، مطلب باقی علاقے سے 20 کلو میٹر کم۔ لیکن ایسا کیوں؟ صرف یہاں پر پلیٹ پتلی کیوں تھی؟ زمین کے نیچے ایسا کیا ہورہا تھا جس سے یہاں پر پلیٹ لگاتار پتلی ہوتی جا رہی ہے؟
دسمبر 2023 میں چینی ماہرین ارضیات نے یہاں پر ایک تفصیلی تحقیق شروع کی، انہوں نے ایک تھری ڈی ماڈل بنایا جس سے انہیں یہ پتا چلا کہ تبت کی اس 80 کلومیٹر کی پلیٹ کے نیچے اصل میں میگما ہے، لیکن اس میگما کے نیچے پھر دوبارہ کرسٹ ہے، اس سے ماہرین نے یہ نتیجہ نکالا کہ کسی وقت میں یہاں انڈین پلیٹ میں ایک دراڑ آئی ہوگی جس سے اس خالی جگہ میں میگما بھر گیا۔ اسی لئے یہاں زمین کی اندرونی ساخت برابر نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ زلزلے آتے ہیں اور یہ سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتا چلا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے یہاں موجود ٹیکٹانک پلیٹس ہمالیائی پہاڑی سلسلے میں گھستی جائیں گی، اسی رفتار سے آنے والے سالوں میں یہ سارے علاقے انڈین سب کانٹیننٹ سے علیحدہ ہوتے جائیں گے۔
لیکن اس سب کو ہونے میں بہت زیادہ سال لگیں گے اور اس وقت تک ہم میں سے کوئی بھی جو اس تحریر کو پڑھ رہا ہے وہ شاید زندہ بھی نہ ہو۔ ان پلیٹس کی موومنٹ کو روکنا انسان کے بس سے باہر ہے اور ہم اس بارے میں شاید کچھ بھی نہ کرسکیں۔
مزیدپڑھیں :حکومت کا مرغی کے گوشت کی فکس قیمتیں مقرر کرنے کا عندیہ


