حکمران اتحاد اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے سیاسی رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کی ’لائف لائن‘ قرار دیا ہے۔تقریب میں ملک بھر سے 8 سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی مومنٹ پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے پاک چین تعلقات کی پائیدار مضبوطی پر زور دیتے ہوئے ملک کی ترقی کی راہ پر صدر شی جن پنگ کے کردار کو سراہا۔
پاک چین انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے چین کے ساتھ تعلقات کو پاکستان کے مستقبل کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے میں ملک میں ترقی اور خوشحالی لانے کی صلاحیت موجود ہے۔
ایم کیو ایم کے طحہٰ احمد نے کراچی کے پاکستان کے تجارتی مرکز کے طور پر کلیدی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے سی پیک کے لیے اہم قرار دیا، طحہٰ احمد نے کہا ’کراچی نہ صرف ملک کا کاروباری مرکز ہے بلکہ سی پیک روٹ کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس موقعے پر سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ چین نے گلوبل ساؤتھ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور سی پیک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں۔
قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر اور سینیٹر شبلی فراز نے چین کی ترقی کی کہانی کو دنیا کے لیے رول ماڈل قرار دے دیا۔
عمران خان کے چانسلر کا الیکشن لڑنے کا معاملہ ، آکسفورڈ یونیورسٹی مظاہروں کی لپیٹ میں ،دیکھیں
