پشاور کے ایک چھوٹے سے ڈھابے میں محنت مزدوری کرنے والے نوجوان ذبیح اللہ نے لندن میں یونیورسٹی آف ہارٹ فورڈشائر سے نمایاں پوزیشن کے ساتھ ماسٹر کی ڈگری حاصل کر لی ۔
ذبیح اللہ کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے ضلع مہمند سے ہے اور انہوں نے تعلیم کے حصول کے لیے چائے کے ڈھابے سے محنت مزدوری کا آغاز کیا تھا۔ بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اقرا نیشنل یونیورسٹی سے ذبیح اللہ کو سکالرشپ کی پیشکس ہوئی تھی، جہاں سے وہ ایم ایس کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ مختلف بینکوں سے نوکری کی پیشکش بھی ہوئی مگر کم تنخواہ کی وجہ سے اپنا کاروبار کرنے کو ترجیح دی اور والد کے ساتھ چائے کے ڈھابے پر کام شروع کیا۔ذبیح اللہ کا کہنا تھا کہ چائے کے ساتھ چپلی کباب کی دکان پر بھی کام سیکھا اور کچھ عرصے بعد کاریگر بن گیا۔
انہوں نے بتایا کہ سنہ 2019 سے 2023 تک پشاور میں خون پسینے کی کمائی سے کاروبار کیا اور قلیل عرصے میں اپنی پہچان بنائی۔ڈھابے پر کام کاج کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوئی تھیں پھر ایک دن ایک طالب علم نے لندن کی یونیورسٹی میں داخلوں کے بارے میں بتایا جس کے بعد میں نے آئلٹس کی تیاری شروع کر دی۔
آئلٹس میں کامیابی کے بعد ذبیح اللہ نے یونیورسٹی آف ہارٹ فورڈشائر میں داخلہ لیا، جہاں شعبہ مینجمنٹ سائنسز میں زیرِتعلیم رہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا نہیں تھا کہ لندن سے تعلیم مکمل کروں گا، یہ میرے لیے ایک خواب تھا جو میری محنت کی بدولت حقیقت میں بدل گیا۔


