Search
Close this search box.
جمعه ,24 جولائی ,2026ء

’منی بجٹ‘: حکومت نے عوام پر 34 ارب روپے ماہانہ کا بوجھ ڈال دیا، مفتاح اسماعیل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے باوجود وفاقی حکومت نے 2 ماہ میں عوام کو فائدہ دینے کی بجائے 34 ارب روپے ماہانہ ٹیکس بڑھا دیا۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ میرا ہمیشہ خیال رہا کہ جب بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں تو پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھائی جائیں اور اس کے برعکس جب یہ قیمتیں کم ہوتی ہیں تو حکومتوں کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو کم کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیکن لگاتار 2 ماہ سے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھا دی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مارچ میں انہوں نے لیوی میں 10 روپے کا اضافہ کیا اور اپریل میں انہوں نے دوبارہ لیوی میں مزید 10 روپے اضافہ کیا جس سے کل لیوی 80 روپے ہو گئی۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سب سے بری بات حکومت کا یہ جھوٹ ہے کہ یہ رقم بلوچستان کے کچھ منصوبوں کے لیے استعمال کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اضافی ٹیکس عام سرکاری فنڈز میں جائے گا جبکہ بلوچستان کے لیے کسی نئے منصوبے کی منظوری نہیں دی گئی۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کے علاوہ جیسا کہ میں ٹی وی پر ایک سے زیادہ بار کہہ چکا ہوں کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہیں کرے گی اور ٹیکسوں میں اضافہ جاری رکھے گی لہٰذا یہ واقعی یہ ایک منی بجٹ ہے۔
مزید پڑھیں : سرکاری نرخ مسترد، ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کا دودھ کی قیمت میں اضافے کا اعلان

یہ بھی پڑھیں