Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

کم عمر شادیوں پر پابندی عائد کرنے کا بل قومی اسمبلی نے منظور کرلیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) کم عمر شادیوں پر پابندی عائد کرنے کا بل قومی اسمبلی نے منظور کر لیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی شرمیلا ہشام فاروقی کا نجی بل قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ بل کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر مرد اور خاتون کا نکاح غیر قانونی ہو گا۔ نکاح خواں یقینی بنائے گا کہ میاں بیوی کے پاس نادرا سے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ موجود ہو گا۔

بل کے تحت عملدرآمد نہ کرنے والے نکاح خواں کو ایک سال قید کی سزا دی جائے گی۔اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی سے نکاح کرنے والے مرد کو دو سے تین سال قید با مشقت کی سزا دی جا سکے گی۔اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے ساتھ رہنے کو چائلڈابیوز سے تعبیر کیا جائے گا۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کو شادی پر مجبور کرنے والے شخص کو پانچ سے سات سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔ بچوں کی سمگلنگ یا انہیں جبری طور پر ہجرت پر مجبور کرنے والے شخص کو پانچ سے سات سال سزا دی جا سکے گی۔ اٹھارہ سال سے کم عمر انسان کی شادی کرانے پر والدین کو دو سے تین سال قید با مشقت کی سزا دی جائے گی۔

ایکٹ کے تحت مقدمات کی سماعت کا مجاز محض متعلقہ سیشن جج ہو گا۔قانون سازی کی منظوری سے 1929 کا بچوں کی شادی کی ممانعت کا ایکٹ منسوخ ہوگیا۔
مزیدپڑھیں:گاڑیوں کے سوقین افراد کیلئے خوشخبری، سستی ترین الیکٹرک گاڑیاں آگئیں

یہ بھی پڑھیں