اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت سے متعلق ہفتہ وار اجلاس ہوا جس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور معیشت میں شفافیت لانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کو جدید اور شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹرانزیکشن سسٹم کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شہریوں اور کاروباری اداروں کے درمیان ادائیگیوں کو آسان بنانے اور ڈیجیٹل نظام کے استعمال کے بارے میں عوامی آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم کو اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ اجلاس میں قائم کی گئی تین اہم کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جن میں ڈیجیٹل پیمنٹس انوویشن اینڈ ایڈوپشن کمیٹی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کمیٹی، اور گورنمنٹ پیمنٹس کمیٹی شامل ہیں۔ ان کمیٹیوں نے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے اپنی تجاویز اور حکمت عملی پیش کی۔
اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ تاجر برادری کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا طریقہ کار مزید آسان اور مؤثر بنانے پر کام جاری ہے۔ چھوٹے کاروباری اداروں کی شمولیت بڑھانے کے لیے ایک سہولت بخش پیکج بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ وہ بھی اس نظام کا حصہ بن سکیں۔
حکام نے بتایا کہ موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والے صارفین کی تعداد کو موجودہ 95 ملین سے بڑھا کر 120 ملین تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی طرح کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کرنے والے تاجروں کی تعداد کو 0.9 ملین سے بڑھا کر 2 ملین تک لے جایا جائے گا۔ مجموعی طور پر ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مالیت کو 7.5 بلین روپے سے بڑھا کر 12 بلین روپے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جسے وزیراعظم نے مزید دگنا کرنے کی ہدایت دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ “ڈیجیٹل نیشنل پاکستان” منصوبہ عملی طور پر شروع ہو چکا ہے اور اس کے تحت کئی اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد سٹی موبائل ایپ کو اب تک 1.3 ملین بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے اور اس پر 15 سرکاری سروسز دستیاب ہیں۔ اس ایپ کے ذریعے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے شعبے میں اب تک 15.5 بلین روپے جمع ہو چکے ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈیجیٹل پاکستان آئی ڈی منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ اسلام آباد میں ای-اسٹیمپنگ کی سہولت جلد متعارف کروائی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد بھر میں، خصوصاً اسپتالوں، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر، پارکس اور میٹرو بس لائنز پر فری وائی فائی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یہ تمام سہولیات وفاقی دارالحکومت کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی جلد از جلد متعارف کروائی جائیں تاکہ پورے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فوائد یکساں طور پر پہنچ سکیں۔
مزیدپڑھیں:بھارتی فوج کے اعلیٰ افسر نے مان لی پاکستان کی فوجی طاقت، حیران کن انکشاف

