کراچی (نیوز ڈیسک) حبیب یونیورسٹی کے بانی چانسلر اور معروف صنعتکار رفیق ایم حبیب 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ یہ اعلان بدھ کے روز حبیب یونیورسٹی کی جانب سے کیا گیا۔
یونیورسٹی نے انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں کہا’’گہرے دکھ کے ساتھ حبیب یونیورسٹی اپنے بانی چانسلر رفیق ایم حبیب (1937-2025) کے انتقال پر سوگوار ہے اور ان کے ناقابلِ فراموش ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔‘‘
یونیورسٹی کے مطابق رفیق ایم حبیب نے ادارے کے آغاز سے لے کر اس کی ترقی تک قیادت کی اور ہمیشہ اخلاقی رہنمائی فراہم کی۔ ان کی خاموش مگر پُرعزم قیادت اور اعلیٰ کردار نے یونیورسٹی کی بنیادوں کو مضبوط بنایا۔ ان کا تعلیمی فلسفہ یہ تھا کہ علم ایسا ہونا چاہیے جو پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو، اور یہی اصول آج بھی حبیب یونیورسٹی کے بنیادی مشن کا حصہ ہے۔
رفیق ایم حبیب حبیب یونیورسٹی فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور اسٹائل کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی رہے، جبکہ اس سے قبل وہ پاکستان کے بڑے بزنس گروپ “ہاؤس آف حبیب” کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔
حبیب یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق رفیق ایم حبیب نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ رفاہی اور سماجی خدمات کے لیے وقف کیا۔ ان کی فلاحی سرگرمیوں میں تعلیم، صحت، ریلیف اور بحالی کے منصوبے شامل رہے۔ وہ مختلف فلاحی اداروں کے ٹرسٹی کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
ہاؤس آف حبیب پاکستان کے بڑے کاروباری اداروں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ رفیق ایم حبیب کی قیادت میں حبیب یونیورسٹی ایک نمایاں تعلیمی ادارے کے طور پر ابھری، جو آج بھی خطے میں علم و تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:سیلاب کی تباہ کاریوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے گرد شکنجہ سخت



