Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی بنانے پر اتفاق

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جمعیت علما اسلام (ف) نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کو نامزد کرنے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت پر اتفاق کرلیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کر رکھا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اپنا قائد حزب اختلاف لانے پر بھی غور کررہی ہے۔

یاد رہے کہ محمود اچکزئی کی جماعت بھی تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان نامی اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہے، جس میں پی ٹی آئی سمیت 6 جماعتیں شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی نشست 5 اگست کو پی ٹی آئی کے عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد سے خالی ہے۔

جے یو آئی (ف) کے ایک بیان کے مطابق آج پی ٹی آئی کا وفد مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ اسلام آباد پہنچا، جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) نے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی کی حمایت پر رضامندی ظاہر کی۔

پی ٹی آئی کے وفد میں اسد قیصر، پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر اور شہرام خان ترکئی شامل تھے، جبکہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے ہمراہ مولانا صلاح الدین ایوبی، ایڈووکیٹ جلال الدین اور مولانا اسجد محمود موجود تھے۔

بیان کے مطابق ملاقات کے دوران پی ٹی آئی کے وفد نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو متحد کرنے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی نے جے یو آئی (ف) سے خیبرپختونخوا کی خالی سینیٹ نشست کے حوالے سے تعاون کی بھی اپیل کی۔ دونوں جماعتوں کے درمیان موجودہ سیاسی اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید برآں بیان میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر قومی جرگہ بلانے کی تجویز پر بھی جے یو آئی (ف) کے سربراہ سے مشاورت کی، جسے مولانا فضل الرحمان نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

بعد ازاں تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے ایک بیان کے مطابق اسد قیصر نے مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات محمود خان اچکزئی کو بتائیں اور انہیں اعتماد میں لیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تحریک تحفظ آئینِ پاکستان نومبر میں ملک بھر میں عوامی اجتماعات کا انعقاد کرے گی۔
مزیدپڑھیں:عمران خان کی ہدایت کے باوجود خیبر پختونخوا کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کیوں؟

یہ بھی پڑھیں