اسلام آباد (اے بی این نیوز) سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ فی الحال کسی بڑے سیاسی بریک تھرو کے امکانات نظر نہیں آ رہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف کی قیادت سے مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مولانا کو پی ٹی آئی کے اندازِ گفتگو اور مذاکراتی طرز پر تحفظات ہیں، جس کے باعث دونوں جماعتوں کے درمیان پیش رفت رک گئی ہے۔
فواد چوہدری نے اے بی این نیوز کے پروگرام “تجزیہ” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور کے جانے سے ماحول میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، تاہم ابھی بھی اعتماد کا فقدان موجود ہے۔ ان کے مطابق، جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان اگر رابطہ پہلے ہو جاتا تو بات آگے بڑھ سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان این جی او نہیں چلا رہے، انہیں خیبر پختونخوا حکومت میں کردار دینا ہوگا تاکہ مذاکرات میں سنجیدگی پیدا ہو۔ فواد چوہدری کے مطابق، بلاول بھٹو زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے حالیہ ملاقات بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس فی الحال کوئی واضح مذاکراتی حکمت عملی نہیں، جبکہ سلمان اکرم راجا کے رویے کے بعد مولانا نے پی ٹی آئی سے فاصلہ اختیار کر لیا۔ ان کے مطابق، سنجیدہ مذاکرات کے لیے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کو خود میدان میں آنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن میں اتحاد سے سیاسی عمل کو تقویت مل سکتی ہے، اور اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن الائنس کی قیادت سنبھالیں تو سیاسی فضا بہتر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، یہ اتحاد اگر چھ ماہ پہلے بنتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔
محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر فواد چوہدری نے کہا کہ ایاز صادق کے ریمارکس کے بعد یہ نامزدگی مشکل ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیکر کو آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت تقاریر دیکھنے کا اختیار نہیں، اور اگر اکثریت اچکزئی کو نامزد کرے تو سپیکر کو رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔
فواد چوہدری نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی میں اس وقت شدید گروپنگ اور انتشار کی فضا ہے، اور سہیل آفریدی کی واپسی سے پارٹی کے اندر تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ہر گروپ اپنی الگ الگ نامزدگیاں دے رہا ہے، جبکہ پارٹی کے پاس احتجاج کے سوا کوئی واضح سیاسی حکمت عملی نہیں۔
افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے پاس اب افغانستان پالیسی کے محدود آپشنز رہ گئے ہیں، کیونکہ طالبان مذاکرات کی میز پر آنے یا کسی قسم کی گارنٹی دینے کو تیار نہیں۔ ان کے مطابق، گزشتہ دو برسوں میں سیکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ حکومت کی سفارتی حکمت عملی تقریباً غائب ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی زاویے پر توجہ دی جا رہی ہے مگر فارن آفس خاموش ہے، اور افغانستان پر جامع سفارتی پالیسی کا فقدان تشویشناک ہے۔ فواد چوہدری کے مطابق، خواجہ آصف کا حالیہ ٹویٹ اس بات کا عندیہ ہے کہ پاکستان کسی بڑی پالیسی تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر کشیدگی پاکستان کے لیے نیا اسٹریٹجک چیلنج بن چکی ہے۔
مزیدپڑھیں:پی ایس ایل انتظامیہ نے نئی ٹیموں کی نیلامی کی تصدیق کر دی

