اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش معاشی بحران کی بنیادی وجہ برآمدات اور درآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق، ڈالرز کی قلت اور مستقل نوعیت کی ساختی اصلاحات کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیفالٹ کا خطرہ روپے کی کمی سے نہیں بلکہ غیر ملکی زرِمبادلہ کی شدید قلت سے پیدا ہوتا ہے، کیونکہ روپے تو چھاپے جا سکتے ہیں مگر ڈالر نہیں۔
اے بی این نیوز کے پروگرام ڈیبیٹ ایٹ8 میں ملکی معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ اپریل اور مارچ 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے وقت پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر تقریباً ساڑھے 16 ارب ڈالر تھے، جبکہ آج بھی ذخائر تقریباً 15 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر آج ڈیفالٹ نہیں ہو رہا تو اس وقت ڈیفالٹ کا بیانیہ کیوں بنایا گیا۔ ان کے مطابق ستمبر 2022 میں بھی ڈیفالٹ کا خطرہ اس لیے ٹل گیا تھا کہ اس سے قبل مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کر کے قسط حاصل کر لی تھی۔
محمد زبیر نے کہا کہ اسحاق ڈار کی واپسی کے بعد آئی ایم ایف کے خلاف سخت بیانات دیے گئے، جس کے نتیجے میں ستمبر 2022 سے مئی 2023 تک آئی ایم ایف پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں تھا اور اس دوران زرِمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو کر تقریباً 2.9 ارب ڈالر رہ گئے، جس سے ملک ایک بار پھر ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف قیادت سے ملاقات اور نئے مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کو نو ماہ کا خصوصی پروگرام ملا، جس سے ملک ڈیفالٹ سے باہر آیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا درست نہیں کہ 2022 سے 2023 کے دوران پی ڈی ایم حکومت نے معیشت کو مکمل طور پر سنبھال لیا تھا، کیونکہ اصل مسئلہ مستقل اصلاحات کا نہ ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف بار بار پاکستان کو بنیادی ساختی اصلاحات کا کہتا ہے، جن میں زرعی اصلاحات، شوگر پالیسی اور دیگر اہم شعبے شامل ہیں، مگر بدقسمتی سے ہم اپنی معیشت کو مستقل بنیادوں پر درست کرنے کے لیے خود فیصلے کرنے کے بجائے آئی ایم ایف کے دباؤ کے منتظر رہتے ہیں، جو ملکی خودمختاری کے لیے بھی تشویشناک ہے۔
محمد زبیر نے واضح کیا کہ معیشت کا اصل مرکز عوام ہوتے ہیں، نہ کہ صرف اسٹاک مارکیٹ، ریٹنگ ایجنسیاں یا عالمی رپورٹس۔ ان کے مطابق سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا عوام کی زندگی بہتر ہوئی، کیا روزگار کے مواقع بڑھے، کیا مہنگائی میں کمی آئی اور کیا غربت میں کمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سے ساڑھے تین برسوں میں تقریباً دو کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔
انہوں نے حکومتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری کی شرح 21 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ گزشتہ چار برسوں میں مہنگائی کے مجموعی اثرات کے باعث متوسط طبقے کی قوتِ خرید میں تقریباً 60 فیصد کمی آ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں 100 سے زائد ملیں بند ہو چکی ہیں، جبکہ اسٹیل انڈسٹری تقریباً 50 فیصد بند ہو چکی ہے اور جو کارخانے چل رہے ہیں وہ بھی 20 سے 25 فیصد استعداد پر کام کر رہے ہیں، جس سے سرمایہ کاری اور روزگار دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پر بات کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ این ایف سی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا معاہدہ ہے، جس کے تحت وفاق کی جانب سے جمع کیے گئے ٹیکسز صوبوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان صوبوں کا وفاق ہے اور اس میں صوبوں کا حق زیادہ ہوتا ہے، اس لیے این ایف سی ایوارڈ کو وفاق کا یکطرفہ حق قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کا این ایف سی ایوارڈ بڑی مشکل سے تمام صوبوں کے اتفاقِ رائے سے طے پایا تھا اور اس میں کسی بھی تبدیلی کے لیے دوبارہ وسیع تر اتفاق ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کچھ جائز تحفظات ہیں، خاص طور پر ان علاقوں کے حوالے سے جو 2010 میں صوبے کا حصہ نہیں تھے مگر اب صوبائی ذمہ داری بن چکے ہیں، اس لیے ان کے وسائل میں اضافہ ہونا چاہیے۔ تاہم اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی دوسرے صوبے کے حصے میں کمی کی جائے یا ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے۔
آخر میں محمد زبیر نے کہا کہ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ صوبوں نے این ایف سی کے تحت ملنے والے وسائل درست استعمال نہیں کیے، مگر سوال یہ بھی ہے کہ کیا وفاق نے اپنے ادارے درست طریقے سے چلائے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے، ریلوے اور اسٹیل مل جیسے اداروں میں ہزاروں اضافی بھرتیاں ہوئیں اور اربوں روپے کا نقصان ہوا، جس کی ذمہ داری بھی وفاق پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بڑھتا ہوا مالی خسارہ، مسلسل قرضے اور ناقص مالی نظم و ضبط بنیادی مسائل ہیں، جن پر سنجیدہ غور اور اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، اور پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے پر واضح اور مضبوط مؤقف رکھتی ہے۔
مزیدپڑھیں:نادرا، 3 تا 10 سال کے بچوں کے بےفارم پر تصویر لازمی قرار




