Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

ایشیا پیسیفک رینسم ویئر رپورٹ: خطے میں سائبر حملوں میں تشویشناک اضافہ

ایشیا پیسیفک رینسم ویئر رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں ایشیا پیسیفک خطہ رینسم ویئر حملوں سے متاثرہ دنیا کا دوسرا بڑا خطہ قرار پایا ہے، جہاں سائبر سکیورٹی خطرات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران اس خطے کے تقریباً 7.89 فیصد ادارے رینسم ویئر حملوں کا شکار ہوئے، جس سے کاروباری، سرکاری اور تعلیمی اداروں کو شدید نقصان پہنچا۔

ماہرین کے مطابق اب سائبر جرائم پیشہ گروہ صرف ڈیٹا انکرپشن تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے معلومات چوری کرکے بلیک میلنگ جیسے نئے اور خطرناک طریقے بھی اپنا لیے ہیں۔ اس تبدیلی نے عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی کے چیلنجز کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایشیا پیسیفک رینسم ویئر رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ “ای ڈی آر کلرز” نامی جدید ٹولز سکیورٹی سسٹمز کو ناکارہ بنا کر حملوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے اداروں کا تحفظ مزید مشکل ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیلیگرام چینلز اور ڈارک ویب پر چوری شدہ ڈیٹا اور لاگ اِن معلومات کی خرید و فروخت کا سلسلہ بھی جاری ہے، جو سائبر کرائم نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

2025 کے دوران سب سے زیادہ سرگرم رینسم ویئر گروپس میں قیلن پہلے، کلاپ دوسرے اور اکیرا تیسرے نمبر پر رہے۔ یہ گروہ مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا حملوں میں ملوث رہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2026 میں “جنٹلمین” نامی نیا رینسم ویئر گروپ عالمی سطح پر ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے، جو مزید پیچیدہ سائبر حملوں کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین نے اداروں کو سائبر سکیورٹی اقدامات مزید مضبوط بنانے اور جدید حفاظتی نظام اپنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں