Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

بھمبر کی سگریٹ فیکٹری میں سرکاری افسران کی شرکت پر تنازع

اسلام آباد: غیر قانونی سگریٹ فیکٹری سے متعلق ایک نئی بحث نے اس وقت شدت اختیار کرلی جب بھمبر میں قائم ایک سگریٹ کمپنی کی تقریب میں بعض سرکاری افسران کی مبینہ شرکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تقریب چند ماہ قبل یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر منعقد ہوئی تھی جس کی میزبانی نیو کشمیر ٹوبیکو کمپنی نے کی۔

رپورٹس کے مطابق تقریب میں گجرات کے ڈپٹی کمشنر، بھمبر کے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں سمیت پولیس کے بعض افسران نے بھی شرکت کی۔ اس پیش رفت پر ٹیکس نیٹ ورک، غیر قانونی سگریٹ تجارت اور اسمگلنگ کے خلاف کام کرنے والے حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں اور ٹیکس چوری کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، ایسے میں متنازع صنعت سے جڑی تقریب میں انتظامی افسران کی موجودگی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ خاص طور پر آزاد کشمیر کے علاقوں بھمبر، میرپور اور برنالہ میں مبینہ طور پر دوبارہ فعال ہونے والی سگریٹ فیکٹریوں کے حوالے سے پہلے ہی خدشات موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان فیکٹریوں میں تیار ہونے والے سگریٹ مختلف راستوں کے ذریعے پاکستان کے مختلف شہروں تک پہنچائے جاتے ہیں۔ گجرات، کھاریاں، لالہ موسیٰ اور جلالپور جٹاں کے راستے اس مبینہ نیٹ ورک میں اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ چھوٹی گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کے ذریعے سامان منتقل کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور پہلے ہی غیر قانونی سگریٹ یونٹس کی سرپرستی پر بعض افسران کے خلاف سخت کارروائیاں کرچکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں محکمہ ان لینڈ ریونیو کے بعض عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹایا بھی گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدی اضلاع کی ضلعی انتظامیہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غیر قانونی تجارت اور مشتبہ نقل و حمل کی موثر نگرانی یقینی بنائے تاکہ قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں