Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

بجٹ 2026-27: الیکٹرک گاڑیوں اور لیپ ٹاپس پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز

اسلام آباد:(رضوان عباسی ) بجٹ 2026-27 کی تیاری کے دوران مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس مراعات واپس لینے اور متعدد اشیا پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت محصولات میں اضافے کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں، الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سامان بردار الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک ٹرکوں کے لیے موجود ٹیکس رعایتیں بھی واپس لیے جانے کا امکان ہے۔

بجٹ تجاویز میں چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں کو حاصل ٹیکس سہولت ختم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور اسمبلنگ میں استعمال ہونے والے آلات اور پرزہ جات پر دی گئی سیلز ٹیکس رعایت واپس لینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق درآمدی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹیشنری کے سامان، کھل اور بنولے پر بھی سیلز ٹیکس بڑھانے کی سفارش زیر غور ہے۔

بجٹ 2026-27 کی مجوزہ تجاویز میں بعض بیکری مصنوعات بھی شامل ہیں۔ ڈبہ بند سویاں، شیر مال، بن اور کیکس سمیت مختلف مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں فاٹا اور پاٹا میں قائم صنعتی یونٹس کے لیے درآمد کی جانے والی مشینری پر موجود سیلز ٹیکس شرح میں اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو متعلقہ شعبوں میں مصنوعات کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام تجاویز ابھی مشاورت کے مرحلے میں ہیں اور ان پر حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں