Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

اسلام آباد: بجٹ 2026-27 میں حکومت نے معیشت کو مستحکم بنانے اور ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد اہم تجاویز پیش کر دی ہیں۔ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا ہے، جبکہ 650 ارب روپے اضافی آمدن انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے حاصل کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔

بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے کے لیے نمایاں ریلیف کی تجویز دی گئی ہے۔ مختلف آمدنی کے درجوں میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ تنخواہ دار افراد پر عائد اضافی 10 فیصد سرچارج ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس اقدام سے لاکھوں ملازمین کو مالی سہولت ملنے کی توقع ہے۔

پراپرٹی سیکٹر کے لیے بھی اہم تبدیلیاں زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

بین الاقوامی فضائی سفر کرنے والے مسافروں کے لیے بھی خوشخبری ہے۔ امریکا جانے والی بزنس کلاس ٹکٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے کم کرکے 50 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ یورپ، آسٹریلیا اور مشرق بعید کے لیے یہ شرح 2 لاکھ 10 ہزار روپے سے کم کرکے 40 ہزار روپے کرنے کی سفارش سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب لگژری گاڑیوں پر ٹیکس بوجھ بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے جبکہ تین کروڑ روپے سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر 40 فیصد فیڈ نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر 81 فیصد فیڈ عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے نیا ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔ اس کے تحت آن لائن آمدن حاصل کرنے والے افراد کو اخراجات کی مد میں 30 فیصد تک کٹوتی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

کاروباری طبقے کے لیے بھی ریلیف تجویز کیا گیا ہے۔ 50 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والی کمپنیوں اور کاروباروں پر سپر ٹیکس ختم کرنے کی سفارش سامنے آئی ہے، جبکہ ڈاکٹرز، وکلا اور دیگر پروفیشنل سروسز فراہم کرنے والوں پر 15 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ بن سکتی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت 21 مختلف اشیا پر پرنٹڈ ریٹیل پرائس کی بنیاد پر سیلز ٹیکس نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے تقریباً 50 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں