Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

پیٹرول کی قیمت میں اضافی وصولیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد: (رضوان عباسی) ملک میں بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمت کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صارفین ایک لیٹر پیٹرول پر بنیادی قیمت کے علاوہ بھاری اضافی بوجھ بھی برداشت کر رہے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی سے قبل پیٹرول کی قیمت 221 روپے 90 پیسے فی لیٹر بنتی ہے، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی شامل ہونے کے بعد ایکس ریفائنری قیمت 245 روپے 16 پیسے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے باوجود صارفین کو پیٹرول 373 روپے 78 پیسے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 151 روپے 88 پیسے مختلف مدات میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا حصہ پٹرولیم لیوی کا ہے جو 106 روپے 74 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 2 روپے 87 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (آئی فیم)، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پی ایس او ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی 49 پیسے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں، جس سے مجموعی قیمت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں شامل مختلف لیویز، مارجنز اور اضافی چارجز کا براہ راست اثر عوام کی جیب پر پڑتا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی ایندھن کے نرخوں سے متاثر ہوتی ہیں۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیویز کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ عوام مہنگائی کے بوجھ میں مزید اضافے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں