اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد میں رینجرز اور پولیس کے آپریشن کے نتیجے میں احتجاج ختم ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان مانسہرہ پہنچ گئے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے لیے خیبر پختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے اٹک پل کو دوبارہ بند کردیا گیا ہے۔
اٹک خورد کے مقام پر روڈ بلاک کرنے کے لیے کنٹینر دوبارہ لگا دیے گئے جبکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب ملانے والی رابطہ پل پر پولیس کی بھاری نفری دوبارہ تعینات کردی گئی ہے، اس سے قبل اٹک پل کو بڑی گاڑیوں کی آمدورفت کےلیے کھول دیا گیا تھا۔
دریں اثنا راولپنڈی پولیس نے جلاؤ گھیراؤ میں ملوث شرپسند عناصر کے خلاف گرینڈ آپریشن کرتے ہوئے 400 سے زائد شرپسندوں کو گرفتار کرلیا۔ترجمان پولیس کے مطابق ملزمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ، ایمونیشن، وائرلیس کمیونی کیشن کے آلات، غلیلیں اور بال بیئرنگ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں 800 کے قریب شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جاچکا ہے، ملزمان مختلف مقامات پر پولیس پر حملہ، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ رات گئے اسلام آباد کے ڈی چوک، بلیو ایریا اور جناح ایونیو کے اطراف رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے بعد تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن منتشر ہوگئے تھے جبکہ تحریک انصاف نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
ڈی چوک سے پسپائی اختیار کرنے پر کارکنوں نے پی ٹی آئی قیادت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا، اس دوران تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے کنٹینر میں آگ لگ گئی تھی۔وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے رات گئے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف اہم حکومتی شخصیات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، ثبوت مٹانے کے لیے کنٹیر کو خود آگ لگائی گئی ہے، انہوں نے کنٹیر نے ملنے والے کاغذات کا فرانزک تجزیہ کرانے کا بھی اعلان کیا تھا۔
منگل کی رات ڈی چوک میں کیا ہوا؟ دل دہلا دینے والی خبر سامنے آگئی


