Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پی ٹی آئی کا عمران خان کی رہائی کیلئے اقدامات تیز کرنے پر اتفاق

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کیلئے اقدامات تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق متفقہ قرار داد منظور کی گئی۔

قرارداد کے متن کے مطابق اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے ہر ممکن سیاسی و قانونی اقدامات کئے جائیں۔

قرار داد میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر زور دیا گیا جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈران پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

قرار داد میں کہا گیا کہ اپوزیشن لیڈر کی دی گئی تجاویز پر مکمل عملدرآمد کیا جائیگا۔

مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں بانی پی ٹی آئی کی مسلسل قید پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور سابق وزیراعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی، پارلیمانی پارٹی سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اپوزیشن اتحاد کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ متحدہ اپوزیشن محمود خان اچکزائی نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بھوک اور افلاس کی حالات پر ہم نے اجلاس میں بات کی، پارلیمنٹیرنز نے بہت بڑی تعداد میں اجلاس میں شرکت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے ہم تحریک چلائیں گے، پر امن رہیں گے، کسی کو گالی نہیں دیں گے، ملک مین آئین کے جو پرخچے اڑائے گئے ہیں ہمیں دکھ ہوتا ہے، وہ پارٹیاں جن کو کہا جا رہا تھا کہ جمہوریت کی بقا کے لئے کام کر رہی ہیں ان کے پر کاٹے گئے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے آئین کا دفع کرنا ہے، اس سلسلے میں تفصیلی بات ہوئی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آٹھ گھنٹے جاری رہا ، سب نے ملک میں درپیش مسائل کا جائزہ لیا، سب سے اہم بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے ان کو سہولیات میسر نہیں ہیں اس پر جائزہ لیا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو رویہ برقرار رکھا گیا ہے وہ غیر آئینی اور غیر انسانی بھی ہے،ان کو کسی سے ملنے نہیں دیا جا رہا ، بانی پی ٹی آئی اور پاکستان کی عوام ایک جان ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الفور عمران خان کے کیسز لگائے جائیں اور اس پر فیصلہ کیا جائے، محمود خان اچکزائی کی قیادت میں جو فیصلے لئے جائیں گے ہمیں منظور ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے مشترکہ کہا ہے کہ ہمیں مائنس بانی منظور نہیں، کسی بھی ایسی کوشش کی بھرپور مذمت کی جائے گی جس میں مائنس عمران ہو گا، کل ہمارا احتجاج ہو گا ، اس میں پاکستان کی عوام بھرپور شرکت کرے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ میرے نوٹس میں لایا گیا کہ شیر افضل مروت نے علی امین گنڈا پور کی وزارت اعلیٰ پر بحالی کیلئے آئینی عدالت میں پٹیشن دائر کی ہے، یہ ایک سازش کی جا رہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کون ہو گا اس کی اجازت صرف بانی پی ٹی آئی دیتے ہیں، سہیل آفریدی بانی کی مرضی سے وزیراعلیٰ بنے ہیں، یہ فیصلہ ریورس نہیں ہو سکتا، علی امین نے بھی وضاحت دے دی ہے، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کہنا تھا کہ مذاکرات کا فیصلہ کرنے کو کمزوری نہ سمجھا جائے، سیاسی بحران دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، عوام کے اوپر اتنا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ ملک نہیں چل پا رہا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد ملک کو ٹریک پر لانا ہے، پاکستان میں آئین کی بالادستی ہونی چاہیے، ہمارے سیاسی قیدی سارے کے سارے بے گناہ ہیں، ان کو رہا کرنا چاہیے، کیا پاکستان میں آپ اختلاف رائے نہیں رکھ سکتے؟

علامہ راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں قرآن ، دین ، انیباء اولیا ء مقدس ہیں ، لیڈران نہیں ہیں، یہاں تو عام آدمی بات بھی نہیں کر سکتا، اگر اس ملک کو چلانا ہے تو ضروری ہے کہ بات چیت ہو اور یہ حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کے چمبر میں آ جائیں، کیا ملک کو بحران سے نکالنا وزیراعظم کی ذمہ داری نہیں ہے؟ ہم ملک مزاکرات چاہتے ہیں مگر عزت کے ساتھ۔

مزید پڑھیں۔واٹس ایپ اکاؤنٹس بند ہونے کا خدشہ،پی ٹی اے نے خبردارکردیا

یہ بھی پڑھیں