مکہ مکرمہ میں رواں حج سیزن کے دوران گرمی کی لہر سے جاں بحق ہونے والے عازمین کی تعداد 922 ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حج سیزن کے دوران گرمی سے جاں بحق ہونے والے عازمین کی تعداد 922 ہوگئی ہے۔ 922. عرب سفارت کار کا کہنا ہے کہ مرنے والے مصری حجاج کی تعداد کم از کم 600 ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق جاں بحق ہونے والے دیگر زائرین کا تعلق اردن، انڈونیشیا، ایران، سینیگال، تیونس اور عراق سے ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان ممالک کے زائرین کی موت گرمی کی لہر کی وجہ سے ہوئی ہے یا نہیں۔ اردن کے 20 لاپتہ حجاج کی تلاش بھی جاری ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق اس سال 18 لاکھ افراد نے فریضہ حج ادا کیا۔ حج کے دوران درجہ حرارت 51.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے ہلاکتوں کے بارے میں معلومات نہیں دی ہیں تاہم اتوار کو کہا گیا تھا کہ 2700 افراد گرمی کی تھکن کا شکار ہوئے۔ ایک خبر رساں ادارے کے مطابق گرمی کی لہر سے جاں بحق ہونے والے عازمین کی اکثریت ایسے افراد پر مشتمل تھی جنہوں نے حج کے لیے خود کو رجسٹر نہیں کرایا تھا، وہ ایئر کنڈیشنڈ مقامات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔
