ریاض(نیوزڈیسک)سعودی عرب نے اپنی معیشت اور ساکھ کو فروغ دینے کے لیے دنیا بھر سے انتہائی باصلاحیت اور غیر معمولی مہارت کے حامل پروفیشنلز کو شہریت دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت سعودی شہریت پانے والوں میں پاکستان سے آبائی تعلق کے حامل معروف سائنس دان ڈاکٹر محمود خان بھی شامل ہیں۔
سعودی نیوز پورٹل ارغام کے مطابق ڈاکٹر محمود خان نے انگلینڈ کی لِور پول یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول سے تعلیم پائی اور سند حاصل کی۔
ڈاکٹر محمود خان نے بہت سے کارپوریٹ اداروں میں خدمات انجام دی ہیں۔
وہ پیپسی کمپنی میں گلوبل ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے وائس چیئرمین اور چیف سائنٹیفک آفیسر رہ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے ٹیکیڈا فارماسیوٹیکلز میں گلوبل ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ سینٹر کے صدر کی حیثیت سے بھی کام کیا ہے۔
ڈاکٹر محمود خان نے بتایا کہ میں انگلینڈ میں پلا بڑھا ہوں۔ کبھی پاکستان میں پرورش پانے کا موقف نہیں ملا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔
ڈاکٹر محمود خان اس وقت سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم تنظیم ہیوولیوشن فاؤنڈیشن کے سی ای او ہیں۔
یہ تنظیم صحتِ عامہ سے متعلق علوم و فنون کی ترویج کے لیے بایو ٹیکنالوجی کے شعبے کو تحقیق کے لیے امداد بھی دیتی ہے اور سرمایہ کاری بھی کرتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر محمود خان نے میو کلینک میں ذیابیطس، اینڈو کرائنولوجی اور تغذیہ سے متعلق علمی پروگرامز بھی چلائے ہیں۔



