Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

منٹوں میں گاڑی پر ایم ٹیگ لگوانے کا آسان طریقہ

اسلام آباد (اوصاف نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایم ٹیگ کی رجسٹریشن کا عمل اتنا آسان بنا دیا گیا ہے کہ شہری چند منٹوں میں اپنی گاڑی کے لیے ایم ٹیگ حاصل کر سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل فوری رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ ٹول پلازوں پر رش یا کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچا جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق ایم ٹیگ رجسٹریشن کے لیے صرف دو بنیادی دستاویزات کی ضرورت ہے: گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ یا بک اور گاڑی کے مالک کا قومی شناختی کارڈ (CNIC)۔ کسی اضافی فارم، فائل یا فوٹو کاپی کی ضرورت نہیں ہے، اور دونوں دستاویزات درست ہونے کی صورت میں ایم ٹیگ موقع پر ہی جاری کر دیا جاتا ہے۔

حکام نے بارہا کہا ہے کہ جو شہری مکمل دستاویزات کے ساتھ رجسٹریشن سینٹرز پر پہنچتے ہیں، ان کا عمل صرف چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ کسی دستاویز کی کمی کی صورت میں انہیں واپس جانا پڑتا ہے۔

شہری سہولت کے لیے اسلام آباد میں ون نیٹ ورک کی جانب سے 15 ایم ٹیگ رجسٹریشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، تاکہ لوگ اپنے رہائشی علاقوں یا سفر کے راستوں کے قریب آسانی سے ایم ٹیگ حاصل کر سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان مراکز کا مقصد زیادہ سے زیادہ گاڑی مالکان کو بروقت ایم ٹیگ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

انتظامیہ نے زور دے کر کہا ہے کہ ڈیڈ لائن کے بعد بغیر ایم ٹیگ موٹر ویز اور ٹول سڑکوں پر سفر کرنے والے شہری مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو آخری دنوں کا انتظار نہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔مزید معلومات یا رجسٹریشن کے اوقاتِ کار اور سینٹرز کے مقامات کے لیے شہری 1313 ہیلپ لائن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایم ٹیگ ایک چھوٹا سا الیکٹرانک لیبل ہوتا ہے جو آپ کی گاڑی کی اگلی ونڈ اسکرین پر چسپاں کیا جاتا ہے۔ اس لیبل کے اندر ایک چپ نصب ہوتی ہے جو جیسے ہی آپ ٹول پلازہ کے قریب پہنچتے ہیں وہاں لگے کیمروں اور سینسرز کے ساتھ رابطہ کرتی ہے۔ سسٹم خود بخود آپ کے اکاؤنٹ سے ٹول کی رقم کاٹ لیتا ہے بغیر نقد لین دین اور بغیر رکے۔

یہ بالکل ایک ڈیجیٹل پاس کی طرح ہے۔ جیسے ہی آپ کی گاڑی قریب آتی ہے سسٹم آپ کا بیلنس چیک کرتا ہے اور اگر رقم موجود ہو تو ٹول گیٹ فوراً کھل جاتا ہے۔ نہ پیسے نکالنے کی ضرورت، نہ بات چیت، نہ وقت کا ضیاع بس چند سیکنڈز میں رواں دواں سفر۔
مزید پڑھیں:حکومت اور پی ٹی آئی کا مذاکراتی عمل زیادہ چلتا نظر نہیں آرہا،عمران خان تصادم چاہتے ہیں،قمر زمان کائرہ

یہ بھی پڑھیں