ایران افزودہ یورینیم کے معاملے پر ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی کے پیش نظر یہ مواد ایران کے اندر ہی محفوظ رکھا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ قریباً ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کیے گئے یورینیم کو کسی بھی صورت بیرون ملک منتقل نہ کیا جائے۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر یہ مواد ایران سے باہر بھیجا گیا تو مستقبل میں امریکا یا اسرائیل کی ممکنہ کارروائیوں کی صورت میں ایران کی دفاعی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ اسی خدشے کے باعث تہران نے اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران امن معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا مزید اقدامات کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ واشنگٹن فوری کارروائی کے بجائے چند روز مزید انتظار کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران افزودہ یورینیم سے متعلق حالیہ مؤقف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے جبکہ عالمی طاقتیں بھی اس پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

